ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حالیہ بڑے پیمانے کے میزائل حملوں نے تل ابیب سمیت کئی شہروں میں زندگی مفلوج کر دی ہے۔ سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کے بعد اسرائیل کے معاشی مرکز تل ابیب میں خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس نے پورے خطے کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔
تل ابیب کی سڑکیں جو عام طور پر رونق سے بھرپور ہوتی ہیں، لمحوں میں ویران ہو گئیں اور لاکھوں شہری زیرِ زمین پناہ گاہوں (Bunkers) میں منتقل ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق آسمان پر میزائلوں اور ڈیفنس سسٹم کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی روشنی اور زوردار دھماکوں نے قیامت کا منظر پیش کر دیا۔
تل ابیب کے مختلف علاقوں میں میزائل گرنے سے عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کئی مقامات پر لگی آگ اور ملبے کے ڈھیر دیکھے جا سکتے ہیں۔
حملوں کے فوری بعد بین گوریان ایئرپورٹ کو بند کر دیا گیا اور فضائی حدود کو ہنگامی طور پر تمام پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ شہریوں میں شدید بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے، جبکہ حکومت نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے حکم تک محفوظ مقامات پر رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ خطے میں جاری کشیدگی کا ایک خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران نے اس کارروائی کو اپنے دفاعی حق اور حالیہ ہلاکتوں کا جواب قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔