امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں تین گھنٹے طویل ملاقات کے بعد ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کو اپنی “پہلی ترجیح” قرار دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس بار بھی مذاکرات ناکام رہے تو نتائج ماضی سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیا اور نیتن یاہو پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ سفارتی راستہ کھلا رکھا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا کوئی “پائیدار ڈیل” ممکن ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے جون 2025 میں ایران کے جوہری مراکز پر کی جانے والی بمباری “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ “پچھلی بار ایران کا ڈیل نہ کرنے کا فیصلہ ان کے لیے بہت برا ثابت ہوا تھا۔”
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایران اس بار زیادہ عقل مندی کا ثبوت دے گا، کیونکہ امریکہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے۔ ملاقات میں نہ صرف ایران بلکہ غزہ اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ کے تحت امریکہ کی سرحدیں تاریخ میں پہلی بار 100 فیصد محفوظ ہیں۔
صدر نے اپنی توانائی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے ونڈ انرجی کی مخالفت کی اور روایتی توانائی کے ذرائع پر توجہ مرکوز کرنے کا اشارہ دیا۔