بنگلہ دیش انتخابات،کس پارٹی کا پلڑا بھاری؟غیر حتمی غیر سرکاری نتائج آنا شروع

بنگلہ دیش انتخابات،کس پارٹی کا پلڑا بھاری؟غیر حتمی غیر سرکاری نتائج آنا شروع

بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ بھی مکمل ہوگیا ہے اب نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے ، بنگلہ دیش بھر میں قائم پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ۔

   بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق  بنگلہ دیش نیشنلشٹ پارٹی 65سیٹوں کے ساتھ آگے ہے چیئر مین بی این پی طارق رحمان نے ڈھاکہ سے کامیابی حاصل کرلی ہے    جماعت اسلامی20سیٹیں حاصل کرنے کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی نے دو سیٹوں  پر کامیابی حاصل کرلی ہے ،غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی ابھی تک صرف 1سیٹ نکال سکی ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش اندولن پارٹی  بھی ایک سیٹ جیت سکی ہے ۔

یہ عام انتخابات ایک نہایت اہم سیاسی پس منظر میں منعقد ہوئے ہیں یہ انتخابات طلبہ کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے تقریباً 18 ماہ بعد ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دو دہائیوں پر محیط شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔

اس تحریک نے بنگلادیش کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی، جس کے بعد یہ انتخابات ملکی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ تصور کیے جا رہے ہیں انتخابی میدان میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم مختلف سیاسی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

دونوں جانب سے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی گئی، جس کے باعث انتخابی عمل کو خاصی توجہ حاصل رہی۔
بنگلادیش میں ماضی کے انتخابات کے دوران غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج عموماً اگلی صبح سامنے آنا شروع ہو جاتے تھے، تاہم اس بار صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بنگلہ دیش عام انتخابات اور آئینی ریفرنڈم کے لیے پولنگ جاری، 13 کروڑ ووٹرز نئی تاریخ رقم کرنے کو تیار

بنگلادیش الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے عمل میں اس مرتبہ زیادہ وقت لگا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انتخاب میں سفید رنگ کے پارلیمانی بیلٹ پیپر کے ساتھ ساتھ جولائی کے قومی چارٹر سے متعلق ریفرنڈم کے لیے گلابی رنگ کے بیلٹ پیپر بھی استعمال کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی تعداد بھی گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کے باعث گنتی کا عمل طویل ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا ۔الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز پر 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں 50 نشستیں مخصوص کی گئی ہیں، جو براہِ راست انتخاب کے بجائے تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔

یہ انتخابات ایک اور حوالے سے بھی تاریخی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
اس اقدام سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرونِ ملک مقیم بنگلادیشی محنت کشوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع ملا، جسے انتخابی شمولیت بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلادیش کی پارلیمنٹ ایک ایوانی نظام پر مشتمل ہے جسے ’’جاتیا سنگسد‘‘ کہا جاتا ہے پارلیمنٹ کے مجموعی ارکان کی تعداد 350 ہے، جن میں سے 300 ارکان براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں جبکہ باقی 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد نئی پارلیمنٹ کی تشکیل عمل میں آئے گی، جو ملک کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *