مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایرانی عسکری ذرائع نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی عرب ملک کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کی گئی تو تہران اس کا جواب براہِ راست ان ممالک کے حکمرانوں کے محلات کو نشانہ بنا کر دے گا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور بیانات کے تناظر میں ایران اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض خلیجی ممالک نے بھی ایرانی حملوں کے ردعمل سے متعلق سخت بیانات جاری کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دھمکی آمیز بیانات خطے میں موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں اور سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران کے وسطی علاقے میں واقع صوبائی ایمرجنسی سروسز کی عمارت اسرائیلی میزائل حملے کی زد میں آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حملے کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور متعدد ایمرجنسی ورکرز زخمی ہو گئے۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بیشتر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے، تاہم کچھ اہلکاروں کو درمیانی نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے سمیت ملبہ ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔