امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے عراق میں فوجی طیارہ گرنے کے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن “ایپک فیوری” کے دوران مغربی عراق میں امریکی طیارہ تباہ ہوا اہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران مغربی عراق میں ایک امریکی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ سینٹکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایندھن بھرنے والے (Refueling) طیارے مشن پر تھے۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں بتایا گیا ہے کہ ایندھن بھرنے والے دو طیاروں میں سے ایک مغربی عراق میں گرا، جبکہ دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، تباہ ہونے والے طیارے میں عملے کے 6 افراد سوار تھے، جن کی قسمت کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
مغربی عراق کا علاقہ، جو عسکری نقل و حرکت کے لیے اہم راہداری تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ایک “فیول ری فیولنگ” طیارہ تھا جو لڑاکا طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سینٹکام کے مطابق جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ عملے کی تلاش اور حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
ایندھن بھرنے والے طیارے کا نقصان امریکی فضائی کارروائیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ طیارے طویل فاصلے تک مشن انجام دینے والے لڑاکا جیٹس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے سے “آپریشن ایپک فیوری” کی لاجسٹک سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پینٹاگون نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ آیا طیارہ دشمن کی کارروائی کا شکار ہوا ہے یا یہ کوئی تکنیکی حادثہ تھا، تاہم تحقیقاتی ٹیمیں ملبے کے معائنے کے بعد ہی حتمی رائے قائم کریں گی۔
مزید پڑھیں: عراق اور امارات کے قریب آئل ٹینکرز پر حملے، حزب اللہ نے اسرائیلی اڈوں پر ڈرون، میزائل اور راکٹ برسا دیئے

