ٹرمپ کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے نہ کرنے کے اعلان کے باوجود اسرائیل نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملہ کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سرائیل نے ایران کے ایک بجلی گھر، دو اسٹیل کے کارخانوں اور ایک سویلین نیوکلیئر تنصیب کو نشانہ بنایا, اس حملے میں ایک شہری شہید اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک اور حملے میں خوزستان اسٹیل کمپنی کے اسٹوریج شیڈ کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی سرکاری خبرایجنسی نے اصفہان کے گورنر مہدی جمالنیجاد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں صوبہ اصفہار میں 25 مزدور شہید ہوئے۔
گورنر اصفہان نے بتایا کہ صوبے میں دو پاور پلانٹس اور ایک پروڈکشن کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کی صلاحیت 914 اور 250 میگاواٹ تھی، حملوں میں دونوں تباہ ہوگئے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اسرائیلی حملے کی تصدیق کر تے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے امریکا کے ساتھ رابطے سے ہوئے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل ان جرائم کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔
علاوہ ازیں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی عوام کی جانوں اور ٹیکس پر جوا کھیلا، اسرائیلی وزیراعظم یہ جوا بری طرح ہار گئے ہیں، نیتن یاہو اب یقینی بنارہے ہیں کہ اس ہار کا خمیازہ امریکی عوام بھگتیں۔
ادھر خُنداب میں بھاری پانی کے ریسرچ ری ایکٹر پر حملے کے بعد پاسداران انقلاب نے وارننگ دیدی کہ امریکا و اسرائیل سے وابستہ کمپنیوں کے افراد فوری طور پر کام کی جگہیں چھوڑ دیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے دس روز کے لیے موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران میں امریکی فوجی اتارنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں تک جاری رہے گی۔
فرانس میں جی سیون وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ فوجی مقاصد حاصل کرنے کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ایک فوری چیلنج بن سکتا ہے۔