راولپنڈی کے مضافات میں مسجد کے داخلی راستے پر ہونے والے خودکش دھماکے میں 15 نمازی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور کو مرکزی ہال میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ٹل گیا۔
پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مسجد کے گیٹ پر معمول کی سیکیورٹی چیکنگ جاری تھی کہ ایک مشتبہ شخص گیٹ کے قریب پہنچا۔ اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے داخلی دروازے پر ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے نتیجے میں 15نمازی شہید جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق اگر حملہ آور کو بروقت نہ روکا جاتا تو وہ مرکزی ہال میں داخل ہو کر مزید جانی نقصان کا سبب بن سکتا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا جبکہ عبادت گاہ اور نمازیوں کو نشانہ بنانا کسی بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق نہیں رکھتا۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ فرانزک ماہرین شواہد اکٹھے کر رہے ہیں اور تفتیشی ادارے مزید کارروائی میں مصروف ہیں۔
دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔ پولی کلینک، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے طبی عملے کو الرٹ کر دیا گیا۔
ترجمان پمز کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت پر مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا جبکہ ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو فوری ڈیوٹی پر طلب کیا گیا۔ سی ڈی اے اسپتال میں اضافی بیڈز فراہم کیے گئے اور بلڈ بینک کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔