سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت، ایرانی فوج کا بدلہ لینے کا اعلان

سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت، ایرانی فوج کا بدلہ لینے کا اعلان

ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو ان کے دفتر میں شہید کیے جانے کی تصدیق ایرانی میڈیا نے کر دی ہے اور ملک بھر میں غم و غم و غصے کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ سپریم لیڈر کی شہادت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا اور جو بھی ملک کی سرحدوں پر جارحیت کرے گا اسے کڑوی سزا دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا ایران پر حملہ، 70 سے زائد شہری شہید، ایران کی جوابی کارروائی جاری، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سید علی خامنہ ای کے قاتلوں سے سخت اور فیصلہ کن انتقام لیا جائے گا، وہ دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور دشمنوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور ناموس کا دفاع پاکستان اور پوری اسلامی دنیا کے سامنے ایک روشن مثال بنے گا۔

حملوں کی تفصیلات

میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ بحری اور فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں معصوم بچیوں سمیت 201 ایرانی شہری شہید اور 747دیگر شدید طور پر زخمی ہوئے۔ حملوں میں سپریم لیڈر کے صاحبزادے اور ان کی اہلیہ، امیر ناصر زادہ وزیر دفاع، اور محمد پاکپور پاسداران انقلاب کے سربراہ بھی شہید ہو گئے۔

ایرانی فوج اور سیکیورٹی حکام نے علاقے میں فوجی تیاریاں بڑھا دی ہیں، ملک بھر کے دفاعی فورسز کو غیر معمولی ہدایات جاری کی گئی ہیں، اور سرحدی علاقوں میں الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔ عوامی احتجاجی ریلیوں اور جلسوں میں ’انتقام‘ اور ’جواب‘ کے نعرے بلند کئے جا رہے ہیں اور شہدا کی یاد میں ملک بھر میں ختم نبوت، ماتم اور دعائیہ اجتماعات جاری ہیں۔

ممکنہ جانشین

سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو ان کا جانشین مقرر کیے جانے کا امکان زیر غور ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومتی حلقے قریبی مشاورت میں ہیں جبکہ عوامی حلقوں اور پارلیمانی اراکین نے بھی مشاورت کے لیے اکٹھے ہونے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی ردعمل

بین الاقوامی برادری نے واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، بعض ممالک نے زور دیا ہے کہ کشیدگی کو مزید نہ بڑھایا جائے، جب کہ انسانی حقوق کے اداروں نے شہری نقصان پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایرانی عوام نے بھی سراپا احتجاج ہو کر اپنے غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

سپریم لیڈر کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں امن و امان اور علاقائی استحکام کیلئے ایک سنگین بحران کھڑا کر دیا ہے، اور آئندہ چند روز عالمی سطح پر تشویش و تبصرے کا محور رہیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *