امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد اپنے پہلے باضابطہ خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کی خبروں کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کے کلیدی فیصلے کرنے والی قیادت موجود نہیں رہی۔
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بڑی عسکری کارروائی تھی جس میں سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ پر درجنوں بم گرائے گئے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے متعدد ساتھیوں سمیت ایک زیرِ زمین بنکر میں نشانہ بنے ہیں جبکہ امریکی صدر کو ان کی میت کی تصاویر بھی دکھائے جانے کی اطلاعات منظرِ عام پر آئی ہیں۔
اس غیر معمولی پیش رفت کے بعد خطے میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور عالمی دفاعی ماہرین اسے ایک ایسے عہد کا خاتمہ قرار دے رہے ہیں جس نے دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔
اگرچہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں تہران کے باضابطہ ردِعمل پر لگی ہوئی ہیں تاہم واشنگٹن اور تل ابیب کے ان دعوؤں نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ صورتحال خطے کو ایک بڑے استحکام کی طرف لے جائے گی یا اس کے نتیجے میں طاقت کا کوئی نیا خلا پیدا ہوگا جو عالمی برادری کے لیے نئے چیلنجز کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: رائٹرز کی وضاحت: ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت سے متعلق خبروں کی تردید

