پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور لچک اور پائیداری کی سہولت کے دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف سے جاری ہونے والے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.21 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہو جائے گی، جس میں 1 ارب ڈالر توسیعی فنڈ سہولت کے تحت ادائیگی شامل ہے اور 21 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت ادائیگی تحت شامل ہیں۔
آئی ایم ایف کے وفد، جس کی سربراہی ایوا پیٹرووا نے کی، نے فروری اور مارچ کے دوران اسلام آباد اور کراچی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اس کامیابی کا اعلان کیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس نئی قسط کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اب تک ملنے والی مجموعی رقم تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے کی گئی معاشی اصلاحات، بشمول مالیاتی نظم و ضبط، افراطِ زر پر قابو پانے کی کوششوں اور توانائی کے شعبے میں جاری ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت حکومتِ پاکستان نے مستقبل کے لیے بھی سخت معاشی پالیسیوں، ٹیکس نیٹ میں اضافے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں (جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) کو مزید مستحکم کرنے کا عزم دہرایا ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اقتصادی پروگرام درست سمت میں گامزن ہے، جس سے مارکیٹ کے اعتماد میں بہتری اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آ رہا ہے۔ ماہرینِ معیشت اس معاہدے کو ملکی معاشی استحکام اور عالمی مالیاتی اداروں سے مزید فنڈز کے حصول کے لیے ایک کلیدی سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستان کی جانب سے کی گئی حالیہ معاشی اصلاحات اور بجٹ اہداف پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔
اس معاہدے کی تکمیل کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کردہ کئی سخت شرائط پر عمل درآمد کرنا پڑا، جن میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں میں کمی اور سبسڈیز کا خاتمہ شامل ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد طویل مدتی معاشی خود انحصاری حاصل کرنا ہے تاکہ مستقبل میں بار بار قرض لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
اسٹاف لیول معاہدے کے بعد اب یہ معاملہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کو بھیجا جائے گا، جس کی حتمی منظوری کے بعد قرض کی پہلی قسط پاکستان کو منتقل کر دی جائے گی۔
معاشی ماہرین نے اس معاہدے کو پاکستان کے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں اسٹاک ایکسچینج میں تیزی اور روپے کی قدر میں استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے دیگر مالیاتی اداروں سے بھی فنڈز کے حصول کا راستہ صاف ہو جائے گا، جو ملکی ترقیاتی منصوبوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھنے کی ترمیم پر آئی ایم ایف کا اعتراض

