واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان بیانات کا ایک بڑا تضاد سامنے آیا ہے جس نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیرِ خارجہ کے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ کو اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاملے کی پوری ذمہ داری خود پر لیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر خطے میں کچھ ہوا بھی ہے تو وہ ان کی اپنی مرضی سے ہوا ہے کیونکہ انہوں نے خود اسرائیل کا ہاتھ ایران پر حملے کے لیے آگے بڑھایا تھا۔ ان کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس عسکری اقدام کو کسی بیرونی دباؤ یا مجبوری کے بجائے اپنی فعال پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بالکل مختلف دفاعی منطق پیش کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل، ایران پر حملہ کرنے والا تھا اور ایسی صورت میں واشنگٹن کو یہ شدید خدشہ لاحق تھا کہ ایران جوابی کارروائی میں خطے میں موجود امریکی فوجیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، اسی لیے امریکہ نے اپنے دفاع میں جنگ میں پہل کی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں اور شہریوں کی سکیورٹی ان کی اولین ترجیح ہے اور جب تک امریکہ اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کر لیتا تب تک یہ کارروائی جاری رہے گی۔ وزیرِ خارجہ نے زمینی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 9 ہزار امریکی شہری متاثرہ خطے سے نکل چکے ہیں تاہم فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے انخلا کے عمل میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن اب بہت دیر ہو چکی،ٹرمپ

