پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خاتون حریت رہنما آسیہ اندرابی کے خلاف بھارتی عدالت کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اورعالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ دفتر خارجہ پاکستان طاہر حسین اندرابی نے دہلی کی عدالت کے حالیہ فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا اقدام کہا ہے، جو جموں کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ دراصل ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اختلافی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف شفاف عدالتی عمل بلکہ عدلیہ کی آزادی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
آسیہ اندرابی کے حوالے سے دفتر خارجہ نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے کشمیر کاز کی ایک نمایاں آواز رہی ہیں اور ان کی سزا اس امر کی غماز ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اظہار اور شہری آزادیوں کو محدود کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے۔
پاکستان نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے فیصلے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں اور امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
بیان میں اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور بھارت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائیں۔
دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام کے سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور منصفانہ ٹرائل کے حق کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی پاکستان نے ایک بار پھر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں واضح طور پر درج ہے۔