سونے کی قیمت کیسے طے کی جاتی ہے ؟عام صارف قیمت کا تعین کیسے کرسکتا؟

سونے کی قیمت کیسے طے کی جاتی ہے ؟عام صارف قیمت کا تعین کیسے کرسکتا؟

سونے کی قیمت کا پورا نظام عالمی منڈی، مقامی اخراجات، وزن، قیراط اور کاریگری سے جڑا ہوا ہے۔ ان بنیادی نکات کو سمجھ کر عام خریدار اور فروخت کنندہ بہتر فیصلہ کر سکتا ہے اور ممکنہ مالی نقصان سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

پاکستان میں سونے کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر مقرر کیے جاتے ہیں تاہم زیور کی خرید و فروخت کے دوران عام خریدار یا فروخت کنندہ کو اکثر مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس نقصان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ سونے کی قیمت طے ہونے کے طریقۂ کار اور مارکیٹ کے نظام کو اچھی طرح سمجھا جائے۔

سونے کی قیمت کا بنیادی انحصار عالمی منڈی پر ہوتا ہے، جہاں سونا فی اونس امریکی ڈالر میں خریدا اور بیچا جاتا ہے، مقامی سطح پر انہی عالمی نرخوں کو بنیاد بنا کر پاکستانی روپے میں قیمت طے کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سونے کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے

کراچی جیولرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سوسائٹی صدر عبد اللہ عبدالرزاق چاند کے مطابق اس کا ایک سادہ حسابی طریقہ ہے جس سے عام صارف بھی قیمت کاتعین کرسکتا ہے، عالمی منڈی میں فی اونس سونے کی قیمت کو اسی دن کے انٹربینک ڈالر ریٹ سے ضرب دیا جاتا ہے، جس سے پاکستانی روپے میں ایک اونس کی قیمت حاصل ہوتی ہے۔

چونکہ ایک اونس میں 31.100 گرام ہوتے ہیں اس لیے اس رقم کو 31.100 پر تقسیم کر کے ایک گرام سونے کی قیمت نکالی جاتی ہے، بعد ازاں ایک گرام کے ریٹ کو 11.664 سے ضرب دینے پر ایک تولہ سونے کی قیمت سامنے آتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4703 ڈالر فی اونس ہو اور انٹربینک ڈالر ریٹ 281.58 روپے ہو، تو ان دونوں کو ضرب دینے سے ایک لاکھ 32 ہزار 271 روپے بنتے ہیں۔

اس رقم کو 31.100 سے تقسیم کرنے پر فی گرام قیمت 42 ہزار 581 روپے آتی ہے، جبکہ اسی کو 11.664 سے ضرب دینے پر فی تولہ قیمت 4 لاکھ 96 ہزار 666 روپے بنتی ہے۔ یہ حساب محض سمجھانے کے لیے مئی کے شروع کے دنوں کے نرخوں کی بنیاد پر لگایا گیا ہے جس میں تبدیلی ممکن ہے۔

اس پورے حساب کے بعد پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی سرکاری قیمت مقرر ہوتی ہے، جسے جیولرز خرید و فروخت کے لیے بنیاد بناتے ہیں یہی شرح زیور کی کٹوتی اور قیمت سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سونے اور چاندی سے متعلق بابا وانگا کی اہم پیشگوئی سامنے آگئی

جب کوئی شخص زیور فروخت کرنے جاتا ہے تو عموماً سنیارا وزن میں سے کچھ ماشے کاٹ لیتا ہے اگر زیور اسی سنیارے سے تیار کروایا گیا ہو تو عام طور پر دو ماشے، جبکہ کسی دوسرے سے بنوا کر لائے گئے زیور میں تین ماشے تک کٹوتی کی جاتی ہے یہ کٹوتی مختلف ناموں سے کی جاتی ہے، مگر درحقیقت یہ وزن میں کمی ہوتی ہے جس کی مالیت ہزاروں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

زیور بنواتے وقت قیراط کا معاملہ بھی اہم ہوتا ہے۔ قیراط سونے کے خالص پن کو ظاہر کرتا ہے۔ 24 قیراط سونا تقریباً مکمل خالص سمجھا جاتا ہے، جبکہ 18 قیراط سونے میں تقریباً 25 فیصد ملاوٹ شامل ہوتی ہے، اور 15 قیراط میں ملاوٹ کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر زیورات 18 یا 15 قیراط میں تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ 21 یا 22 قیراط زیور محدود سطح پر دستیاب ہوتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خریدار کو کم قیراط کا زیور دیا جائے لیکن قیمت 24 قیراط کے حساب سے وصول کی جائے، جس سے خریدار کو کم خالص سونا ملتا ہے مگر ادائیگی مکمل کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ پالش یا ضائع ہونے کے نام پر ایک یا دو ماشے کی قیمت الگ سے وصول کی جا سکتی ہے، حالانکہ یہ سونا مکمل طور پر ضائع نہیں ہوتا بلکہ دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے زیور بنانے کی مزدوری کے نام پر چار سے پانچ ہزار روپے تک بھی وصول کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ زیور بنواتے وقت پہلے یہ طے کر لیا جائے کہ سونا کتنے قیراط کا ہوگا اور قیمت بھی اسی قیراط کے حساب سے ادا کی جائے۔ اگر ممکن ہو تو زیور کو مشین پر چیک کروا لیا جائے تاکہ خالص پن کے بارے میں کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔

اسی طرح زیور فروخت کرتے وقت بہتر یہ ہے کہ پہلے اسے ڈلی میں تبدیل کروایا جائے، تاکہ ملاوٹ الگ ہو جائے اور خالص 24 قیراط سونا اسی دن کے سرکاری نرخ پر فروخت کیا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *