ہر پاکستانی کتنے روپے کا مقروض ہو چکا ؟ حیران کن رپورٹ سامنے آ گئی

ہر پاکستانی کتنے روپے کا مقروض ہو چکا ؟ حیران کن رپورٹ سامنے آ گئی

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان پر مجموعی قرض 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کے بعد ہر پاکستانی شہری اوسطاً 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہو گیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آئی ایم ایف سمیت بیرونی اور مقامی قرضوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ امپورٹ کم ہو اور ایکسپورٹ بڑھے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں، آپ ایکسپورٹس کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کرتے، عراق میں سب سے زیادہ جنگیں رہیں وہاں دیکھیں اب کتنی کمپنیاں ہیں، عراق والے اب زیادہ تر چیزیں باہر سے نہیں منگواتے۔

چیئرمین کمیٹی سیف اللّٰہ ابڑو کا کہنا ہے کہ خدا کے واسطے رحم کریں، قرضوں پر قرضے لیتے جارہے ہیں، اس پر کوئی پالیسی بنائیں، ایسی پالیسی بنائیں کہ ایکسپورٹس بڑھیں اور قرضہ کم ہو۔

یہ بھی پڑھیں :اسحاق ڈار اور وانگ ای کی بیجنگ میں ملاقات ، مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے 5 نکاتی اقدام پر اتفاق

وزارت خزانہ  حکام نے کہا کہ جو بھی قرضہ لیا جاتا ہے وہ واپس کیا جاتا ہے، قرضی واپسی کی تاریخ پر سود سمیت قرض واپس کیا جاتا ہے، بیرونی اور مقامی دونوں قرض واپس کیے جاتے ہیں۔اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پر مجموعی قرض کا حجم 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

حکام کے مطابق اس میں سے 26 ہزار ارب روپے بیرونی قرض جبکہ 55 ہزار ارب روپے مقامی قرضوں پر مشتمل ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملک کی 25 کروڑ آبادی کے حساب سے فی کس قرض کا بوجھ تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار روپے بنتا ہے، جو ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

اجلاس میں قرضوں کے بڑھتے حجم اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے آئندہ حکمت عملی اور قرضوں کے مؤثر انتظام سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *