عمران خان کی صحت کے متعلق ان کے ذاتی معالج کی بھی اہم تجاویز سامنے آگئیں

عمران خان کی صحت کے متعلق ان کے ذاتی معالج کی بھی اہم تجاویز سامنے آگئیں

بانی پاکستان تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے ان کے ذاتی معالج نے علاج کے لیے فوری اور خصوصی اقدامات کی تجویز دیتے ہوئے انہیں ایک اعلیٰ طبی ادارے منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق آنکھ کے مرض میں تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے بروقت اور جامع طبی سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو بہتر اور مکمل علاج کی غرض سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہاں آنکھوں سمیت دیگر امراض کے علاج کی تمام جدید سہولیات دستیاب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا حکم جاری، اڈیالہ جیل جانے کی ہدائت

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ میں درپیش مسئلہ حساس نوعیت کا ہے اور اس میں وقت انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق بروقت اور مناسب علاج نہ صرف بینائی کو محفوظ رکھنے بلکہ اسے بحال کرنے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاج کرنے والی ٹیم میں ماہر امراض چشم کی شمولیت لازمی ہونی چاہیے تاکہ تشخیص اور علاج کے عمل میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بانی پی ٹی آئی کی دیگر طبی پیچیدگیاں بھی آنکھ کے مسئلے پر اثرانداز ہو سکتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ایک جامع میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جو مشترکہ طور پر کیس کا جائزہ لے۔ ان کے بقول اعلیٰ معیار کے طبی ادارے میں مربوط انداز میں علاج سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آبادہائیکورٹ سے فیض حمید کے بھائی نجف حمید کو بڑا ریلیف

ڈاکٹر فیصل سلطان نے مطالبہ کیا کہ مجوزہ میڈیکل بورڈ میں انہیں بھی شامل کیا جائے کیونکہ وہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے عمران خان کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ماہر معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ مریض کی سابقہ طبی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

ذاتی معالج کے مطابق اگر انہیں اور دیگر متعلقہ ماہرین کو ٹیم میں شامل کیا جائے تو علاج کے عمل میں تسلسل اور درست رہنمائی ممکن ہوگی۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور انہیں ایسے اسپتال منتقل کیا جائے جہاں تمام ضروری سہولیات ایک ہی جگہ میسر ہوں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *