وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ کا دوسرا مہینہ شروع ہوگیا ، پاکستان جنگ رکوانے کیلئے بھرپور کوششیں کررہا ہے ، اس حوالے سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت انتہائی اہم اجلاس ہوا جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی کابینہ کے ارکان شریک ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دوسرے ممالک کی طرح پاکستان بھی حالیہ جنگ سے متاثرہو رہا ہے، جنگ کے آغاز سے قبل ہماری ٹیم نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات اور مشاورت کی، 60 فیصد گاڑیوں کو روک دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے، خطے میں ضرور امن قائم ہوگا ، پاکستانی پرچم برادر 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کا انتظام کیا ہے، اجتماعی اور بھر پور کاوشوں سے چیلنجز کو جانچا گیا اور بروقت اقدامات اٹھائے۔
وزیراعظم کاکہنا تھا کہ کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت ،بلاول بھٹو ،وزرائے اعلیٰ اور پارلیمنٹیرینز کے کردار کو سراہتے ہیں، کابینہ ارکان نے دوماہ کی تنخواہیں رضا کارانہ طور پر سرنڈر کیں، پارلیمنٹیرینز نے تیل کی بچت کو یقینی بنایا، گزشتہ تین ہفتوں میں وفاق نے پی ایس ڈی پی میں سو ارب روپے کا کٹ لگایا۔
ان کاکہنا تھا کہ جنگی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے وزرائے اعلیٰ نے تعاون کی یقین دہانی کرائی، مشکل صورتحال میں غریب کو تحفظ دینا اور اشرافیہ کو قربانی کا مظاہرہ کرنا ہے، وفاق اور صوبے قومی ترقی اور خوشحالی کے جو منصوبے روک سکتے ہیں انہیں روکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فنڈز بچا کر غریب لوگوں کو تحفظ دینے پر خرچ کئے جائیں، سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام یقینی ہوگا، ہماری توجہ کمزور اور مفلوک الحال طبقات کو تحفظ دیے پر مرکوز ہے، مہنگائی پر قابو پانا ترجیحات میں شامل ہے۔