عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا رجحان برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل 3 فیصد اضافے کے ساتھ 97 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جبکہ برطانوی خام تیل کی قیمت میں 2.2 فیصد اضافہ، 96.86 ڈالر فی بیرل پر فروخت جاری ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج ایران کے اطراف اپنے اسلحے اور گولہ بارود کے ساتھ موجود رہیں گی اور مکمل و حقیقی معاہدے پر عمل درآمد تک اپنی پوزیشن برقرار رکھیں گی۔
صدر ٹرمپ نےٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں خبردار کیا کہ اگر صورتحال خراب ہوئی تو امریکہ بھرپور اور سخت ردعمل دے گا، انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھا جائے گا تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
ادھر یورپی یونین نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کیا لیکن اس کے باوجود توانائی کی قیمت کا بحران جلد ختم نہیں ہوگا۔
خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کمیشن کی ترجمان اینا کائیسا ایٹکونین نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ اہم میری ٹائم کوریڈور میں کشیدگی میں فوری طور پر کمی سے توانائی کی مارکیٹوں میں صورت حال فوری طور پر بحال ہونے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس خیال میں نہیں رہنا چاہیے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا یہ موجودہ بحران جلد ختم ہوگا تو ایسا نہیں ہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ اس تعطل نے عالمی سطح پر سپلائی چین کی خامیوں کو بے نقاب کیا ہے اور خدشہ ہے کہ اس کے طویل عرصے تک اثرات ہوں گے۔