تحریر: جوھر شاہ
جب انسان نے اس دنیا اور کائنات میں قدم رکھا ہے تو کئی اہم چینلنجز کا سامنا بھی کیا ہے انسان نے جینے کیلئے ہوا، پانی اور خوراک کیلئے طلب کیا ہے کیونکہ انسانی زندگی کے لیے تین بنیادی اور ناگزیر ضروریات ہوا، پانی اور خوراک ہیں۔
ہوا، پانی اور خوراک، یہ وہ عناصر ہیں جن کے بغیر نہ صرف انسان بلکہ کوئی بھی جاندار طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ اگر ان میں سے کسی ایک کی فراہمی منقطع ہو جائے تو زندگی فوری طور پر خطرے میں پڑ جاتی ہے، بلکہ پوری کائنات میں انسانی بقا کا تصور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان تینوں عناصر کے بغیر انسان کا جینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔
ان بنیادی ضروریات میں سب سے اہم ہوا ہے۔ انسان چند منٹ بھی آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ سانس کے ذریعے آکسیجن جسم میں داخل ہو کر دماغ، دل اور تمام خلیات کو متحرک رکھتی ہے۔ آلودہ یا زہریلی ہوا انسانی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا کرتی ہے، جو سانس، دل اور اعصابی نظام کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ صنعتی آلودگی، گاڑیوں کا دھواں اور جنگلات کی کٹائی ہوا کے معیار کو مزید خراب کر رہے ہیں، جس سے آنے والی نسلوں کی صحت بھی داؤ پر لگ چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد صرف آلودہ ہوا کی وجہ سے سانس اور دل کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، اور یہ تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔
دوسری اہم اور زندگی کی بنیاد سمجھی جانے والی ضرورت پانی ہے۔ انسانی جسم کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ پانی خون کی روانی، جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، ہاضمے کے عمل اور زہریلے مادوں کے اخراج میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انسان کئی دن پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، جبکہ پانی کی کمی براہِ راست صحت، معیشت اور سماجی استحکام کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم یا اس پر سیاسی یا فوجی کنٹرول عالمی سطح پر انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ پانی کی کمی نہ صرف انسانی زندگی بلکہ خوراک کی پیداوار، روزگار اور معاشی استحکام کو بھی متاثر کرتی ہے۔
تیسری بنیادی ضرورت خوراک ہے، جو انسان کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ روزمرہ محنت، مشقت، کام کاج اور روزگار کے لیے درکار جسمانی طاقت خوراک کے بغیر ممکن نہیں۔ مناسب اور متوازن غذا نہ صرف جسمانی نشوونما بلکہ ذہنی صحت، قوتِ مدافعت اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی ضروری ہے۔ خوراک کی قلت یا غیر معیاری غذا سماج میں غربت، بیماری اور عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک اور زراعت کے مطابق ہر سال دنیا میں تقریباً 9 کروڑ لوگ بھوک یا غذائی قلت کا شکار رہتے ہیں، اور یہ تعداد بڑھتی ہوئی آبادی اور قدرتی وسائل کی کمی کے سبب مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے ایک عالمی سروے کے مطابق آئندہ 25 سے 35 برسوں میں پانی کی شدید قلت دنیا کے کئی ممالک کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے خطے اس بحران کے سب سے بڑے شکار بننے کا خدشہ رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، افغانستان اور بنگلہ دیش میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، گلیشیئرز کا پگھلنا، بارشوں کے غیر متوازن نظام اور پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے باعث آبی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سعودی عرب، ایران، عراق، یمن اور اردن پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جو مستقبل میں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ افریقہ میں مصر، نائجیریا، ایتھوپیا اور جنوبی افریقہ جبکہ چین کے شمالی علاقے، آسٹریلیا اور میکسیکو بھی پانی کی کمی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بروقت منصوبہ بندی، پانی کے تحفظ اور مؤثر آبی نظم و نسق پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں پانی کے حصول کے لیے تنازعات اور حتیٰ کہ جنگوں کا خدشہ بھی بڑھ جائے گا۔
جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں ہی پانی کے بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے حالیہ مہینوں میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے حوالے سے جارحانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جو ایک غیر انسانی اور غیر فطری اقدام کے مترادف ہے۔ جب عالمی سطح پر انسانی بقا اور پانی کے تحفظ کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دی جا رہی ہے، ایسے میں پانی کو بطور دباؤ یا جنگی ہتھیار استعمال کرنا پوری انسانیت کے لیے خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔
1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون اور امن کی ایک اہم مثال رہا ہے، جو گزشتہ چھ دہائیوں سے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا رہا ہے۔ پاکستان اپنی زرعی، صنعتی اور گھریلو ضروریات کے لیے 70 فیصد سے زائد پانی اسی نظام پر انحصار کرتا ہے۔ سندھ طاس کا نظام پاکستان کی تقریباً 80 فیصد آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرتا ہے، جبکہ زرعی شعبہ، جو ملک کی 60 فیصد سے زائد غذائی پیداوار مہیا کرتا ہے، مکمل طور پر اسی پانی پر منحصر ہے۔
ماہرین اور عالمی اداروں کے مطابق پاکستان پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور آئندہ برسوں میں پانی کی طلب رسد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبی بحران برقرار رہا تو 2030 تک پاکستان کی معیشت، خوراک کی دستیابی اور لاکھوں افراد کا روزگار شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی سماجی بدامنی، مہنگائی، ہجرت اور خوراک کی قلت کے مسئلے کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ ہوا، پانی اور خوراک وہ بنیادی عناصر ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی ممکن نہیں۔ ان تینوں کی صاف، محفوظ اور منصفانہ دستیابی ہی ایک صحت مند، پُرامن اور مستحکم معاشرے کی ضمانت ہے۔ کسی بھی قسم کی دشمنی یا سیاسی کشیدگی میں پانی جیسی نعمت کو نشانہ بنانا پوری انسانیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ صاف پانی کا تحفظ، اس کی بچت اور منصفانہ تقسیم درحقیقت انسانی زندگی کے تحفظ کے مترادف ہے، اور یہی شعور آج کے باشعور انسان، ریاستوں اور عالمی اداروں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔