اسلام امن اور انسانیت کا دین، دُنیا کو مسلمانوں کے خلاف نفرت روکنا ہوگی‘، اسلاموفوبیا کے عالمی دن پرصدر، وزیراعظم کا پیغام

اسلام امن اور انسانیت کا دین، دُنیا کو مسلمانوں کے خلاف نفرت روکنا ہوگی‘، اسلاموفوبیا کے عالمی دن پرصدر، وزیراعظم کا پیغام

اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر صدر مملکت ’آصف علی زرداری‘ اور وزیراعظم ’شہباز شریف‘ نے اپنے الگ الگ پیغامات میں دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، تعصب اور امتیازی سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس خطرناک رجحان کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلام امن، محبت، ہمدردی اور انصاف کا دین ہے اور اسے انتہا پسندی یا تشدد سے جوڑنا سراسر لاعلمی اور تعصب کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف مسلمانوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر سماجی ہم آہنگی اور امن کیلئے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ نفرت انگیز تقاریر، مذہبی تعصب اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے نفرت انگیز جرائم کے خلاف قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے لیکن اس آزادی کو کسی بھی مذہب یا کمیونٹی کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی کمیونٹیز معاشی، سماجی اور سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم مسلمانوں کے خلاف بڑھتا ہوا تعصب اور اسلاموفوبیا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ اور وقار کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

صدر مملکت نے پاکستان کے اندر مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آئین کے مطابق تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی تنوع کا احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ایک پرامن معاشرے کے قیام کیلئے نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ’2019‘ میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ تھا جس میں ’51‘ نمازی شہید ہوئے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کس حد تک خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف تعصب، نفرت اور امتیازی رویوں کی مذمت کیلئے ایک مشترکہ عالمی آواز کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اسلاموفوبیا کے تدارک کے حوالے سے منظور کی گئی قرارداد عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ معاشرتی عدم برداشت اور مذہبی تعصب ایسے عوامل ہیں جو بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور باہمی احترام جیسی اقدار کو کمزور کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن دنیا کو یہ یاد دلاتا ہے کہ مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر تشدد، نفرت اور امتیاز سے تحفظ فراہم کرنا عالمی ذمہ داری ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مہذب معاشرے انسانی حقوق میں عقائد کی بنیاد پر فرق نہیں کرتے بلکہ باہمی احترام، رواداری اور انصاف جیسے اصولوں پر قائم ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اسلاموفوبیا کی ہر شکل اور ہر سطح پر سختی سے مذمت کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام انسان برابر ہیں اور انہیں مساوی حقوق حاصل ہیں، یہی اصول بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی منشور میں بھی تسلیم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام تمام انسانیت کیلئے امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے اور اسے انتہا پسند نظریات سے منسوب کرنا حقیقت کے منافی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر اسلاموفوبیا کے خلاف آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی عالمی سطح پر مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلمانوں کے احساس تحفظ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیراعظم کے مطابق عالمی امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب تمام مذاہب اور ثقافتوں کا احترام کیا جائے اور نفرت و تعصب کی سیاست کو مسترد کیا جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *