آج ملک بھر میں ’یومِ دستور‘ بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ یومِ دستور کے موقع پر ملک کی اعلیٰ سیاسی و پارلیمانی قیادت نے 1973 کے آئین کو پاکستان کی جمہوری شناخت، وفاقی استحکام اور شہری حقوق کی بنیادی ضمانت قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 1973 کا آئین پاکستان کی جمہوری پہچان اور وفاقی توازن کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق یہ تاریخی دستاویز صرف ایک قانونی ڈھانچہ نہیں بلکہ روزمرہ حکمرانی کا رہنما اصول ہے، جس پر مکمل عملدرآمد ہی جمہوریت اور انصاف کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ آصف زرداری نے سابق رہنماؤں ذولفقار علی بھٹواوربینظیربھٹو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ متفقہ آئینی نظام انہی کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹونے 1973 کے آئین کو قومی وحدت، جمہوری استحکام اور بنیادی حقوق کا سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا نفاذ مضبوط وفاق اور عوام دوست طرزِ حکومت کی ضمانت ہے۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پرکہا کہ آئین اداروں کے درمیان توازن، شفاف احتساب اور عوامی نمائندگی کو یقینی بناتا ہے۔ جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے واضح کیا کہ آئین کی پاسداری ہی قومی ترقی اور استحکام کی اصل ضمانت ہے۔
یہ دن صرف ایک قانونی دستاویز کی یاد نہیں بلکہ قومی اتحاد، جمہوریت اور ریاستی استحکام کی علامت ہے۔10اپریل 1973 کو متفقہ طور پر منظور ہونے والا آئین، جس کی قیادت ذولفقارعلی بھٹو اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے کی، پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مختلف سیاسی قوتوں نے اختلافات پسِ پشت ڈال کر قوم کو ایک مشترکہ آئینی راستہ دیا۔ آئین پاکستان کی تیاری ذوالفقار علی بھٹو اور اس وقت کے سیاستدانوں کا عظیم کارنامہ ہے، سانحہ 71 کے بعد سیاسی اکابرین نے ملک کو متفقہ آئین دیا جسے 10 اپریل 1973 کو حتمی شکل دی گئی۔
یومِ دستور اس لیے بھی اہم ہےکہ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد صرف جغرافیہ نہیں بلکہ آئین، قانون اور عوامی رائے پر قائم ہے۔یہ دن آئین کی پاسداری، جمہوری اقدار اور ادارہ جاتی توازن کے عزم کو تازہ کرتا ہے۔