پاکستان کی جانب سے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے کے فیصلے نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس فیصلے کو جہاں دنیا بھر کے کرکٹ شائقین نے خوش آئند قرار دیا، وہیں بھارتی میڈیا بھی پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمتِ عملی کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر کرکٹ کو سیاست سے بالاتر رکھتے ہوئے دانشمندانہ اور مؤثر ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے باعث عالمی توجہ پاکستان پر مرکوز ہو گئی ہے۔ بھارتی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے نے بھارت کو بھی ایک مشکل سفارتی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔
بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف کرکٹ کے عالمی مفاد کو ترجیح دی بلکہ ایک مثبت پیغام بھی دیا کہ کھیل کو کشیدگی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ بعض بھارتی میڈیا ادارے اپنی ہی حکومت کی سخت پالیسیوں پر تنقید کرتے دکھائی دیے اور کہا کہ ‘پاکستان کے بغیر کرکٹ واقعی ادھوری رہتی ہے’ اور پاکستان کا یہ فیصلہ کرکٹ کے لیے خوش آئند ہے۔
دوسری جانب ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج میچ کے اعلان نے شائقینِ کرکٹ کو جوش و خروش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے مداح اس تاریخی مقابلے کو دیکھنے کے لیے بے صبری سے منتظر ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بحثیں، تجزیے اور پیش گوئیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔
میچ کے اعلان کے فوری بعد ممبئی سے کولمبو جانے والی پروازوں کے ایئر ٹکٹس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرایوں میں دو لاکھ پاکستانی روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ متعدد پروازیں پہلے ہی فل ہو چکی ہیں۔
پاکستان حکومت کی جانب سے میچ کھیلنے کے فیصلے کے بعد کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری میں بھی جان پڑ گئی۔ ہزاروں شائقینِ کرکٹ نے فوری طور پر ہوٹلز کی بکنگ شروع کر دی، جس کے باعث کئی بڑے ہوٹلز مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔
کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران ہر سطح پر معیاری سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ شہر میں سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور سہولیات کے حوالے سے بھی جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر ٹورزم، ایئر لائنز اور ٹریول انڈسٹری بھی مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے کرکٹ شائقین کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ماہرین کے مطابق یہ میچ نہ صرف کرکٹ بلکہ سفارتی، معاشی اور سیاحتی حوالے سے بھی خطے کے لیے ایک اہم ایونٹ ثابت ہو سکتا ہے۔