بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آگیا، خیبر پختونخوا میں تعلیمی منصوبے سے 106 ملین روپے غائب

بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آگیا، خیبر پختونخوا میں تعلیمی منصوبے سے 106 ملین روپے غائب

خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں کروڑوں روپے کی خرد برد کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں پراجیکٹ ڈائریکٹرسمیت 3 افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری ’ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ‘میں 10 کروڑ 60 لاکھ (106 ملین) روپے کی دھوکہ دہی سے رقم نکالے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے جامع تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ تیار کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا کی صرف ایک تحصیل میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف، نیب نے ریکارڈ مانگ لیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خطیر رقم جعلی چیکس کے ذریعے نکلوائی گئی۔ یہ فنڈز ورلڈ بینک کی جانب سے صوبائی حکومت کو پشاور، ہری پور، نوشہرہ اور صوابی جیسے اضلاع میں تعلیم کے حصول، بہتر استعمال اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے دیے گئے 26 ارب روپے کے قرض کا حصہ تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس کے تباہ کن سیلاب کے بعد اس منصوبے کا دائرہ کار آفت زدہ اضلاع تک بھی بڑھا دیا گیا تھا، تاہم کرپشن کے اس واقعے نے منصوبے کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

محکمہ تعلیم کی انکوائری کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ رقم کی یہ غیر قانونی واپسی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو)کے ذریعے کی گئی۔ رپورٹ میں خرد برد میں ملوث ہونے کے الزام میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 3 سینیئر افسران کے خلاف فوری قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے بعد صوبائی حکومت نے ذمہ داران سے رقم کی واپسی اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔خیبر پختونخوا ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کا مقصد صوبے کے پسماندہ اضلاع میں تعلیم اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا تھا۔

مزید پڑھیں:اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے ضلع سوات میں انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات شروع کردی

 عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے ایسے حساس منصوبوں میں مالی بے ضابطگیاں نہ صرف بین الاقوامی اداروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں بلکہ براہِ راست ان طلبہ کے مستقبل کو بھی متاثر کرتی ہیں جن کے لیے یہ سہولیات مختص تھیں۔ حالیہ سیلاب کے بعد ان فنڈز کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی، جس کے باعث اس خرد برد کو سنگین جرم قرار دیا جا رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *