لاہور میں بسنت کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ گلیوں، بازاروں، سڑکوں اور گھروں کو بسنتی رنگوں سے سجایا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت نے 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں بسنت کا اعلان کر رکھا ہے اور اس حوالے سے عوام میں بے حد جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ لاہور میں بسنت کے موقع پر کھانوں کے آرڈر بُک ہونے لگے ، ہوٹلوں میں بُکنگ بڑھنے لگی ، بیرونِ ملک سے لوگ بسنت منانے لاہور پہنچنے لگے۔
لاہور کے مشہور ذائقوں کا مزہ چھکنے کے لیے پکوان سینٹرز کو ڈھیروں آرڈرز مل چکے ہيں ۔ کنا، ہریسہ، مرغ چنا، کڑاہی، نہاری، پائے، حلیم اور حلوہ پوری ، ہر پکوان سینٹر کا روزگار چمک اٹھا۔
ماہرین کے مطابق بسنت کے 3 دنوں میں فوڈ انڈسٹری اور ہوٹل انڈسٹری میں اربوں روپے کا کاروبار متوقع ہے۔ دوسری جانب بسنت کو محفوط بنانے کے لیے انتظامیہ بھی متحرک ہے۔پنجاب حکومت نے ایس او پيز پر سختی سے عمل کا حکم دیا ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر لاہور کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگانے سے لے کر ڈرون سرویلیئنس تک مختلف اقدامات کیے جارہے ہيں۔ سیف کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ بسنت کی تیاریوں کے سلسلے میں شہر میں ایک ارب سے زائد کی ڈور اور پتنگیں فروخت ہوگئی ہیں۔
لیگل ایڈوائزر سیف کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ ملک فیضان نے کہا کہ بسنت سے قبل ڈیڑھ ارب سے زائد مالیت کی ڈور اور گڈی فروخت ہوجائے گی اور لاہور میں ڈور پتنگیں نایاب اور مانگ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
لیگل ایڈوائزر کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے بتایا کہ پون تاوا 250 روپے، ایک تاوا 450 سے 500 روپے میں فروخت ہونے لگا، ڈیڑھ تاوا گڈا 700 روپے سے 800 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے۔
مزید جانیئے: لاہور میں بسنت منانے والوں کیلئے بڑی خبر،لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ جاری

