معروف عالم دین علامہ آصف رضا علوی نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے منفی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق کے برعکس معلومات پھیلانا ایک منظم مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
علامہ آصف رضا علوی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور بیانیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حقیقت کو مسخ کر کے عوام کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا موجودہ بیانیہ حقائق کے سراسر برعکس ہے اور یہ ایک منظم مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل اور اہلِ تشیع علماء کے درمیان ہونے والی ملاقات کو جان بوجھ کر متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس ملاقات کو سیاسی رنگ دے کر ایسے تاثر پیدا کیے جا رہے ہیں جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس نشست میں شریک افراد نے خود اس پروپیگنڈا کو مسترد کیا اور کہا کہ پھیلایا جانے والا بیانیہ حقیقت کے منافی ہے۔
علامہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کہنے، حق سننے، حق سمجھنے اور حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے ہوشیار رہیں اور ہر خبر کو تحقیق کے بعد ہی آگے بڑھائیں۔
اس سے قبل معروف عالم دین مفتی محمد فیضان نے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر سے علمائے کرام کے وفد کی حالیہ ملاقات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات امت مسلمہ کی یکجہتی کے لیے منعقد کی گئی تھی۔
مفتی محمد فیضان نے کہا کہ ہم فیلڈ مارشل پر مکمل اعتماد کرتے ہیں اور اس معاملے پر شر پھیلانے والوں کی مذمت کرتے ہیں ۔