طالبان رجیم کی انتہاپسندی کے باعث افغانستان کے اندر مزاحمتی تحریکیں شدت اختیار کر گئیں

طالبان رجیم کی انتہاپسندی کے باعث افغانستان کے اندر مزاحمتی تحریکیں شدت اختیار کر گئیں

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں شدت اختیار کر گئی،رجیم کی گرفت کمزور ہو چکی، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے گزشتہ ایک سال کی کاروائیوں کی تفصیلات جاری کر دیں۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ(این آر ایف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال میں طالبان رجیم کے خلاف 401 ٹارگٹڈ کارروائیاں ہوئیں ، کابل 126 آپریشنز کے ساتھ سرفہرست رہا

ٹارگٹڈ کارروائیاں کابل، پنجشیر، بدخشان، ہرات سمیت 19 صوبوں میں کی گئیں، طالبان رجیم کو ٹارگٹڈ کارروائیوں میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جن میں651 ہلاک اور579 زخمی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت، افغانستان اور اسرائیل کا پاکستان مخالف خفیہ منصوبہ بے نقاب ،سابق بھارتی کرنل کے ہوشربا انکشافات

این آر ایف کے مطابق گزشتہ ہفتے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنما احمدمسعودبھی واضح کرچکے کہ طالبان رجیم داخلی اورعالمی سطح پر اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے اور اس نے عوام کو سیاسی نظام سے باہر رکھا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں بڑھتی ہوئی مزاحمتی تحریکیں واضح اشارہ ہیں کہ افغان عوام اب اس غاصب رجیم کے مظالم سے تنگ آچکے ہیں ، طالبان رجیم اندرونی انتشار اور شدید معاشی بدحالی کا شکار ہوچکی ہے۔، طالبان رجیم نہ صرف عالمی سطح پر اپنی ساکھ کھو چکی ہے بلکہ اب اسے داخلی سطح پر بھی شدید مزاحمت کاسامنا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *