نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کی منظوری دیدی

نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کی منظوری دیدی

ملک میں مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے ایک اور جھٹکا، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 35 پیسے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اضافہ مارچ سے مئی تک 3 ماہ کے لیے لاگو ہوگا اور اس کا اطلاق ملک بھر کے صارفین پر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے بری خبر، بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اضافہ موجودہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی کی نظرثانی کا حصہ ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ ردوبدل بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے ایندھن اور آپریشنل اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا تاکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

کن صارفین پر اثر پڑے گا

یہ اضافہ کے الیکٹرک کے تمام صارفین کے ساتھ ساتھ ملک کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں پر بھی لاگو ہوگا۔ رہائشی، تجارتی اور صنعتی صارفین سب اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔

حکام کے مطابق 3 ماہ کے عرصے میں صارفین پر اضافی لاگت کا مجموعی بوجھ تقریباً 8 ارب 67 کروڑ روپے ہوگا۔ اس اضافے کا اثر بجلی کے ماہانہ بلوں میں واضح طور پر نظر آئے گا، خصوصاً ان صارفین پر جو زیادہ یونٹس استعمال کرتے ہیں۔

سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا نظام

نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک معمول کا سہ ماہی نظام ہے جس کے تحت بجلی کی پیداواری لاگت کو موجودہ ایندھن کی قیمتوں اور دیگر اخراجات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بجلی کی کمپنیوں کو مالی طور پر مستحکم رکھنا ہے تاکہ وہ نظام کو فعال اور قابل اعتماد رکھ سکیں۔

مزید پڑھیں:بجلی کی پیداوار میں 5 فیصد اضافہ، قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

تجزیہ کاروں کے مطابق ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں تبدیلی اور پیداواری اخراجات میں اضافہ بجلی کے نرخوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے سہ ماہی بنیادوں پر نظرثانی کی جاتی ہے۔

عوامی ردعمل اور خدشات

دوسری جانب صارفین اور صنعتکاروں نے اس اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بڑھتی مہنگائی اور کاروباری لاگت میں اضافے کے باعث مشکلات درپیش ہیں، ایسے میں بجلی کی قیمت میں اضافہ مزید دباؤ کا باعث بنے گا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نقصانات میں کمی نہ کی گئی تو مستقبل میں بھی اس نوعیت کی ایڈجسٹمنٹس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *