خطے میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ جانے والی پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور آج بھی مجموعی طور پر 166 پروازیں منسوخ کردی گئیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سکیورٹی خدشات اور فضائی حدود کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر متعدد ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز نے اپنے فلائٹ آپریشن محدود یا معطل کر دیے ہیں۔
کراچی سے دبئی، شارجہ، بحرین، دوحہ اور ابوظبی کیلئے 37 پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ لاہور سے کویت، دبئی، دوحہ، ابوظبی، شارجہ اور بحرین کی 32 پروازیں معطل رہیں۔ اسی طرح اسلام آباد سے بغداد، بحرین، کویت، العین، ابوظبی، دوحہ اور شارجہ کی 37 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ پشاور سے دوحہ، شارجہ، ابوظبی اور راس الخیمہ کیلئے 18 پروازیں منسوخ کی گئیں۔
فیصل آباد سے دوحہ، دبئی، بحرین، شارجہ اور ابوظبی کی 16 پروازیں متاثر ہوئیں جبکہ ملتان سے دوحہ، شارجہ، دبئی اور ابوظبی کی 18 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ کوئٹہ سے شارجہ کیلئے غیر ملکی ایئرلائن کی دونوں پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔ مزید برآں اسلام آباد سے ریاض جانے والی ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کو فضا میں صورتحال کے باعث کراچی منتقل کرنا پڑا۔
پروازوں کی اچانک منسوخی کے باعث ایئرپورٹس پر مسافروں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا اور کئی افراد کو طویل انتظار کے بعد واپس گھروں کو لوٹنا پڑا۔ بیرونِ ملک ملازمت کرنے والے متعدد پاکستانی بروقت اپنی ڈیوٹی پر نہ پہنچنے کے خدشات سے پریشان دکھائی دیے جبکہ کئی افراد کے ورک اور وزٹ ویزوں کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے، جس سے قانونی پیچیدگیوں اور اضافی اخراجات کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ کچھ مسافروں کے مطابق ان کے اہم کاروباری معاہدے، طبی معائنے اور خاندانی تقریبات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ علاقائی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات بہتر ہوتے ہی مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال کر دیا جائے گا، تاہم موجودہ حالات میں پروازوں کا شیڈول غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہے گا۔