توشہ خانہ کیس اور عمران خان ، رہنما پی ٹی آئی لطیف کھوسہ کا قانونی و طبی صورتحال پر تفصیلی موقف

توشہ خانہ کیس اور عمران خان ، رہنما پی ٹی آئی لطیف کھوسہ کا قانونی و طبی صورتحال پر تفصیلی موقف

سینیئر قانون دان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے توشہ خانہ کیس اور بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق اہم حقائق سامنے لائے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سیئنر قانون دان اور رہنما پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے واضح کیا کہ توشہ خانہ کیس میں دی گئی سزا متعدد آئینی سوالات کو جنم دیتی ہے اور عدالتی فیصلوں کو سیاسی مقاصد یا جلد بازی کی نذر کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر ملزم کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے جسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ بانی پی ٹی آئی کی تشویشناک طبی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے لطیف کھوسہ نے انکشاف کیا کہ ابتدائی تشخیص کے مطابق ان کی بینائی کا صرف 15 فیصد حصہ محفوظ رہا ہے، جس کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر چار ماہرین نے فوری معائنہ کیا۔

رہنما پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی رہنمائی میں سزا معطل ہونے اور ضمانت ملنے کے بعد اب تمام قانونی کارروائیاں شفاف طریقے سے جاری ہیں۔

لطیف کھوسہ نے اس بات پر زور دیا کہ جیل میں ماہر معالجین کی کمی کے باوجود فوری طبی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، تاہم خاندان کی شمولیت کے بغیر علاج کے نتائج مکمل نہیں سمجھے جا سکتے۔

سیاسی و پارلیمانی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست اور قانونی ادارے صحت اور انصاف کی فراہمی میں دوہرے معیار سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کو اٹک جیل کی سختیوں سے ریلیف دلایا گیا ہے اور قوی امید ہے کہ انہیں رمضان المبارک کے دوران ہی ہسپتال منتقل کر دیا جائے گا۔

لطیف کھوسہ نے واضح کیا کہ سرکاری میڈیکل بورڈ اور قانونی شفافیت ہی انصاف کی فراہمی کا واحد راستہ ہیں اور موجودہ و سابق وزرائے اعظم کے معاملات میں سیاسی دباؤ کو دخل نہیں دینا چاہیے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *