خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھارت کو توانائی کے شدید دباؤ کا سامنا ہے، اور بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں اس صورتحال کو حکومتی پالیسیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے معروف اخبار خلیج ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں بھارت میں گیس اور پیٹرول کے بحران پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم بھارت میں داخلی پالیسیوں اور سفارتی ترجیحات نے بحران کی شدت میں اضافہ کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی توانائی سے متعلق حکمت عملی عوامی ضروریات پوری کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی علاقوں میں گھریلو گیس کی قلت کے باعث شہری متبادل ذرائع جیسے لکڑی اور کوئلہ استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ دستیاب گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پیٹرول کی فراہمی کے حوالے سے بھی مشکلات کی اطلاعات ہیں، جہاں متعدد شہروں میں شہریوں کو طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر ایندھن حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی تناؤ نے بھی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات عام صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ملک میں پیٹرول وڈیزل کی قلت کے خدشہ میں کتنی حقیقت؟حکومت نے حقائق بتا دیے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت کو توانائی کے متبادل ذرائع، مؤثر ذخیرہ پالیسی اور متوازن سفارتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ توانائی کی پالیسیوں کا براہِ راست اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑتا ہے، اس لیے پائیدار اور عوام دوست اقدامات ناگزیر ہیں۔