وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کے ہوشربا اضافے کے جواب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے کے لاکھوں موٹر سائیکل سواروں کے لیے بڑے مالی ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پپختونخوا سہیل آفریدی نے پٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافے کیساتھ صوبے ،میں موٹڑ سائیکل سواروں کے لیئے ماہانہ اسبسڈی کا اعلان کیا ہت اور اس کے تحت صوبے کے تمام رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کو مجموعی طور پر 2200 روپے دیے جائیں گے۔
یہ رقم دو مراحل میں ادا کی جائے گی (پہلی قسط 1100 روپے فوری طور پر منتقل کی جائے گی)۔اس اسکیم سے صوبے کے تقریباً 15 سے 16 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل سوار فائدہ اٹھا سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پٹرول مہنگا ہونے کے باوجود پشاور BRT اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بی آر ٹی فلیٹ میں 10 نئی ‘پنک بسیں’ شامل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو “عوام پر معاشی ایٹم بم” قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا: “ہم عوام کو عالمی بحرانوں اور وفاق کی غلط پالیسیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ سبسڈی پٹرول کی قیمت میں ہونے والے 55 روپے کے اضافے کے اثر کو زائل کرنے کے لیے دی جا رہی ہے۔”
ان کا کہنا تھاکہ کورونا میں جب ہم نے پیٹرول مہنگا کیا تو یہ لوگ اس پر سیاست کررہے تھے، پنجاب میں سیلاب آ یا تو ہم نے ان کا ساتھ دیا ، ہم نے سیاست نہیں کی، کراچی میں گل پلازہ آگ کی لپیٹ میں آیا ہم نے سیاست نہیں کی، نواز شریف کے پلیٹلیس گر گئے اس پر ہم نے سیاست نہیں کی لیکن بانی پی ٹی آئی کی صحت کی بات ہے تو یہ اس پر سیاست کررہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت خیبر پختونخوا نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبے میں اس وقت تقریباً 14 سے 16 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں، ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل استعمال کرنے والے کو 2200 روپے دیے جائیں گے تاکہ عوام کو سفری اخراجات میں ریلیف مل سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہمارا فرض ہے ، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی

