وفاقی حکومت نے تمام سرکاری اداروں میں سرکاری امور کے لیے ذاتی ای میل اکاؤنٹس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس پابندی کا اطلاق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سمیت تمام پبلک سیکٹر اداروں پر ہوگا، جبکہ اس اقدام کا مقصد ڈیٹا سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور حساس ریاستی معلومات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
اس حوالے سے ایک باقاعدہ سرکلر جاری کیا گیا ہے، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) کی جانب سے جاری کردہ سابقہ ہدایات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر کسی بھی سرکاری مراسلت کے لیے غیر سرکاری ای میل پلیٹ فارمز کا استعمال بند کریں۔
وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے خط میں نشاندہی کی گئی تھی کہ متعدد افسران اور ادارے اب بھی سرکاری دستاویزات کے تبادلے کے لیے ہاٹ میل، یاہو اور جی میل جیسی نجی ای میل سروسز استعمال کر رہے ہیں۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے اقدامات قومی سلامتی، ڈیٹا کی رازداری اور معلومات کی سالمیت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
سرکلر میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ (NTISB) متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ نجی ای میل سرورز حکومت کے محفوظ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے باہر ہوتے ہیں، اور یہ سائبر حملوں، ڈیٹا لیکس اور غیر مجاز رسائی کے لیے انتہائی حساس اور کمزور رہتے ہیں۔
نئی ہدایات کے تحت تمام سرکاری مراسلت، بشمول دستاویزات، رپورٹس اور بین المحکماتی رابطہ، صرف رجسٹرڈ سرکاری ای میل اکاؤنٹس کے ذریعے ہی کی جائے گی۔ انتظامی سیکریٹریز اور محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور یہ حکم فوری طور پر تمام ماتحت دفاتر تک پہنچائیں۔