ہم نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں ، ایک جنگ جیت بھی رہے ہیں ، امریکی صدر ٹرمپ

ہم نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں ، ایک جنگ جیت بھی رہے ہیں ، امریکی صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ہم نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں اور اب ایک جنگ جیت بھی رہے ہیں۔

واشنگٹن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اب مذاکرات چاہتا ہے اور بےتابی سے ڈیل کی کوشش کر رہا ہے تاہم کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا دعویٰ کیا کہ ہم نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کردیا ہے مگر فیک نیوز کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہم جنگ ہار رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی نیوی اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے پاس اب کچھ نہیں بچا تاہم فیک نیوز اس کے برعکس تصویر پیش کر رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے 100 میزائلوں کو ناکام بنایا جو اہم اہداف کی طرف بڑھ رہے تھے، انہوں نے سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی پالیسیوں نے امریکا کو نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر نے ایران پر حملے کا فیصلہ وزیردفاع پیٹ ہیگستھ کے کھاتے میں ڈال دیا

امریکی صدر نے کہا کہ بی 2 بمبار طیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔

داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایئرپورٹس پر امیگریشن حکام کی تعیناتی سے پروازوں میں تاخیر کا مسئلہ حل کیا گیا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر نیشنل گارڈز بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدرایران پر حملے کا ملبہ وزیردفاع پیٹ ہیگستھ کے کھاتے میں ڈال چکے ہیں ، ان کاکہنا تھا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر اس سے بھی زیادہ شدت سے حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں اگر اس نے اپنی عسکری شکست کا اعتراف نہ کیا، صدر ٹرمپ گیدڑ بھبکی نہیں دے رہے۔ وہ ایک شدید جنگ چھیڑنے کے لیے تیار ہیں، ایران کو دوبارہ غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *