پاکستان میں وفاقی حکومت نے توانائی بحران اور وسائل کے مؤثر استعمال کے پیش نظر ملک بھر میں ‘اسمارٹ لاک ڈاؤن’ کے نفاذ کا جامع پلان تیار کر لیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو مکمل بند کیے بغیر توانائی اور فیول کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ مسودے میں سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کے اوقات کار میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے متعدد سخت اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے توانائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ممکنہ لاک ڈاؤن کی خبریں، تاجر وں کا ردعمل سامنے آگیا
پلان کے تحت بازار اور شاپنگ سینٹرز رات ‘9:30′ بجے بند کر دیے جائیں گے جبکہ شادی ہالز اور دیگر تقریبات کو رات ’10’ بجے تک محدود رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ تقریبات میں ‘ون ڈش’ کی پابندی اور زیادہ سے زیادہ ‘200’ افراد کی شرکت کی شرط بھی عائد کی جائے گی تاکہ غیر ضروری اخراجات اور توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
حکومت نے ہائبرڈ ورکنگ پالیسی متعارف کرانے کی بھی تجویز دی ہے، جسے ابتدائی طور پر ‘1’ ماہ کے لیے نافذ کیا جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت ‘5’ دن کام کرنے والے سرکاری دفاتر ہفتے میں ‘3’ دن دفتر جبکہ ‘2’ دن آن لائن کام کریں گے، جبکہ ‘6’ دن کام کرنے والے سروسز دفاتر میں ‘4’ دن دفتر اور ‘2’ دن آن لائن کام ہوگا۔
مزید برآں دفاتر میں ’50’ فیصد روٹا سسٹم نافذ کیا جائے گا تاکہ ملازمین کی آمدورفت کم ہو اور ایندھن کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ شہریوں کو بھی سہولت میسر آئے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تعلیمی اداروں کے لیے بھی متبادل اوقات کار اور جزوی آن لائن کلاسز پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ طلبہ کی حاضری کو مرحلہ وار کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ سرکاری سطح پر غیر ضروری روشنیوں کے استعمال، سرکاری گاڑیوں کے محدود استعمال اور ایئر کنڈیشننگ کے اوقات میں کمی جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
واضح رہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی مکمل لاک ڈاؤن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے معیشت کا پہیہ چلتا رہے گا جبکہ توانائی کی بچت بھی ممکن ہوگی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس پالیسی کی کامیابی کا دارومدار عوامی تعاون اور سخت عملدرآمد پر ہوگا۔
حکومتی حلقوں کے مطابق اس پلان کا مقصد موجودہ چیلنجز سے نمٹتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اپنانا ہے، جس سے نہ صرف توانائی بحران پر قابو پایا جا سکے بلکہ عوام کو بھی کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔