اسرائیل نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ جنگ بندی اقدام کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ تجویز ممکنہ جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت ایران کے خلاف جاری بمباری کو دو ہفتوں کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل امریکی اقدام کی حمایت کرتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران نہ صرف آبنائے ہرمز کو بحال کرے بلکہ امریکہ، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف تمام حملے بھی بند کرے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل ان کوششوں کی بھی تائید کرتا ہے جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران مستقبل میں امریکہ، اسرائیل، اپنے عرب ہمسایہ ممالک اور پوری دنیا کے لیے جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ بنے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، تاہم ممکنہ جنگ بندی کی خبریں عالمی سطح پر امید کی ایک نئی لہر پیدا کر رہی ہیں۔