سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے سولر انرجی استعمال کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر ندیم افضل چن نے وفاقی حکومت اور نیپرا کی جانب سے متعارف کروائی گئی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
ندیم افضل چن نے اپنے موقف کے اہم نکات میں کہنا ہے کہ عوام کے ساتھ فراڈ نہیں ہونے دیں گے’ ندیم افضل چن نے اس پالیسی کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صارفین نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر سولر سسٹم لگوائے تاکہ بجلی کے بھاری بلوں سے بچ سکیں، مگر نئی پالیسی ان کے ساتھ ایک “بڑا فراڈ” ہے۔
پی پی پی رہنما نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور وفاقی حکومت و نیپرا کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف دنیا کلین انرجی کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ پاکستان میں اس پالیسی کے ذریعے عوام کو مایوسی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
جب ایک قد آور سیاسی شخصیت عوامی مسئلے کو عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کرتی ہے، تو حکومت پر پالیسی پر نظرثانی کرنے کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
اس قانونی جنگ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت میں کٹوتی نہ ہو، تاکہ عام آدمی کو ریلیف ملتا رہے۔
مزید پڑھیں: سولر صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ نئی قیمت کیا ہوگی؟

