اسلام آباد ہائیکورٹ نے فراڈ کیس میں ملوث سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ان کی گرفتاری سے روک دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں نجف حمید کی جانب سے دائر درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، جبکہ مزید کارروائی کے لیے کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔
عدالتِ عالیہ نے آئندہ سماعت تک اسپیشل جج سینٹرل کے اس فیصلے پر بھی کارروائی معطل کر دی، جس کے تحت ایف آئی اے کی جانب سے دائر درخواست پر نجف حمید کی ضمانتِ قبل از گرفتاری واپس لینے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسپیشل جج سینٹرل نے یہ فیصلہ 16 جنوری کو سنایا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران مؤقف اختیار کیا گیا کہ نجف حمید نے اپنی ضمانت منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے اور مؤقف اپنایا کہ ضمانت واپس لینے کا فیصلہ قانونی تقاضوں کے برعکس ہے۔
واضح رہے کہ نجف حمید اس وقت محکمہ انسدادِ رشوت ستانی کو ایک مقدمے میں مطلوب ہیں، جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے ان کے خلاف فراڈ سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد نجف حمید کو فوری طور پر گرفتاری سے ریلیف مل گیا ہے، تاہم عدالت نے فریقین کے جوابات جمع ہونے کے بعد کیس پر مزید سماعت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔