ٹرمپ انتظامیہ کا ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے والے ممالک کو سزا دینے پر غور

ٹرمپ انتظامیہ کا ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے والے ممالک کو سزا دینے پر غور

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ میں امریکا کا ساتھ نہ دینے پرنیٹو ممالک کو سزا دینے پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ ان ممالک کو سزا دینے کے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں جنہوں نے جنگ میں خاطر خواہ حصہ نہیں لیا،  ٹرمپ ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت ان نیٹو ارکان کو سزا دی جائے گی جنہوں نے جنگ میں امریکی خواہش کے مطابق تعاون نہیں کیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ اس سزا میں ناراض ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکال کر ان ممالک میں تعینات کرنا شامل ہے جنہوں نے جنگ میں امریکا کی مدد کی جبکہ اسپین یا جرمنی میں امریکی اڈے بند کرنا بھی منصوبے میں شامل ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کی شام اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا تھا کہ جب ہمیں ضرورت تھی تو نیٹو وہاں موجود نہیں تھا، اور اگر ہمیں دوبارہ ضرورت پڑی تو وہ تب بھی نہیں ہوں گے، گرین لینڈ کو یاد کریں، برف کا وہ بڑا اور بدانتظام ٹکڑا۔

یہ بھی پڑھیں :کرسی خطرے میں ؟ 24 ڈیموکریٹس ارکان نے ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ کردیا

قبل ازیں بدھ کو صدر ٹرمپ نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کی،  وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ٹرمپ کا ارادہ تھا کہ وہ روٹے کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے اپنی مایوسیوں پر انتہائی واضح اور دو ٹوک بات چیت کریں۔

لیکن ملاقات سے قبل ایک بریفنگ میں لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نیٹو سے علیحدگی اختیار کرنے پر بحث کر چکے ہیں،  نیٹو کا امتحان لیا گیا اور وہ ناکام رہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت یورپ میں تقریبا 84 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، اگرچہ ٹرمپ نے ابھی تک مخصوص ممالک کا نام نہیں لیا، لیکن اسپین، اٹلی اور فرانس ممکنہ نشانے پر ہو سکتے ہیں۔

وال اسٹریٹ کے مطابق اسپین نے نہ صرف دفاعی بجٹ بڑھانے سے انکار کیا بلکہ ایران پر حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی،  اٹلی نے سسلی میں اپنے فضائی اڈے کا استعمال روکا، جبکہ فرانس نے صرف اس شرط پر اڈہ استعمال کرنے دیا کہ وہاں وہ طیارے نہیں اتریں گے جو ایران پر حملوں کے لیے جا رہے ہوں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *