وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں25 ہزار نوجوانوں کو تربیت دے کر روزگار سے منسلک کیا جائے گا، اس اقدام کو صوبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ منصوبہ “سی ایم یوتھ ایمپلائی ایبلٹی پروگرام” کے تحت شروع کیا جائے گا، جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کر کے انہیں عالمی معیار کے مطابق تیار کرنا ہے، منصوبے کی منظوری پنجاب ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں دی گئی، جہاں متعلقہ حکام نے اس کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر معلوماتی ٹیکنالوجی اور کاروباری عمل خدمات کے شعبے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر نوجوانوں کو کسٹمر سپورٹ، کال سینٹر اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ آسانی سے روزگار حاصل کر سکیں۔
یہ تربیت لاہور،راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سمیت بڑے شہروں میں فراہم کی جائے گی، منصوبے پر عمل درآمد اور نگرانی پنجاب اسکلز ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ تربیتی نظام میں کلاس روم تعلیم اور عملی ماحول کا امتزاج شامل ہوگا۔
حکام کے مطابق تربیتی اداروں کو ادائیگیاں تین مراحل میں کارکردگی کی بنیاد پر کی جائیں گی اور تمام مالی لین دین شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل بینک ٹو بینک نظام کے تحت ہوگا یہ تربیت فراہم کرنے والوں کی ادائیگی کو روزگار کے قابلِ تصدیق نتائج سے مشروط کیا گیا ہے،اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت تربیتی فیس میں عوامی شراکت کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
کم از کم تعلیمی قابلیت میٹرک رکھی گئی ہے تاہم ضرورت کے مطابق اس میں لچک بھی رکھی جائے گی حکام نے مزید بتایا کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کی ملازمت کی تصدیق پے رول اور تیسرے فریق کے ذریعے کی جائے گی تاکہ شفافیت اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے، یہ منصوبہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔