سی بی ایس نیوز نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران میں ممکنہ فوجی کارروائی اور فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کا حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی حکام نے نہ صرف ممکنہ حملے بلکہ اس کے بعد کی صورتحال، جیسے ایرانی افواج کو قابو میں لینے اور حساس تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں خفیہ اور خصوصی نوعیت کے آپریشنز شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ آپریشن کا ابتدائی ہدف ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو حاصل کرنا ہو سکتا ہے، جس کی مقدار تقریباً 972 پاؤنڈ بتائی جا رہی ہے۔ امریکی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ مواد محفوظ کیا جائے یا ایران کے اندر سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔
اس حوالے سے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ فوجی تیاری کرنا پینٹاگون کی ذمہ داری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس حساس مشن کی منصوبہ بندی جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے تحت کی جا رہی ہے، جو انتہائی خفیہ اور پیچیدہ فوجی کارروائیوں میں مہارت رکھتی ہے، خصوصاً ایسے آپریشنز جن کا تعلق جوہری مواد کے کنٹرول یا منتقلی سے ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اشارہ دیا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اہداف کے حصول کے قریب پہنچ چکا ہے اور ایران کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری ابتدائی فوجی کارروائیوں کا مقصد ایران کے فضائی دفاعی نظام، میزائل پروگرام اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک انفراسٹرکچر کو کمزور کرنا تھا، تاکہ اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت محدود کی جا سکے۔
تاہم ان حملوں کے باوجود ایران نے خلیجی خطے میں امریکا اور اسرائیل کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رکھیں اور آبنائے ہرمز میں کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دے کر تیل کی ترسیل کو بھی متاثر کیا۔
اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار موجود ہے، جو ہتھیاروں کے درجے تک پہنچنے سے ایک قدم دور سمجھی جاتی ہے۔
ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے یورینیم کو ہینڈل کرنا انتہائی مشکل اور خطرناک عمل ہے، کیونکہ یہ گیس کی شکل میں انتہائی حساس مواد ہوتا ہے، جس کے لیے غیر معمولی تکنیکی اور عسکری مہارت درکار ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس طرح کا آپریشن شروع کرتا ہے تو یہ نہایت پیچیدہ، خطرناک اور وسیع نتائج کا حامل ہوگا، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیکیورٹی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

