بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن ردّالفتنہ نے علاقے میں قیامِ امن کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بدنام زمانہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر نے ریاستِ پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان کے بھائی میر آفتاب بگٹی کی کوششیں بھی کارگر ثابت ہوئیں۔ میراک خان چکرانی اور ان کے 25 ساتھیوں نے ریاست کے سامنے سرنڈر کیا اور اپنے ہتھیار جمع کرائے۔
سرنڈر کرنے والے گروہ کا ماضی میں ڈکیتی، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث رہنے کا ریکارڈ موجود ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق گروہ نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی جمع کرایا، جس سے علاقے میں مزید خطرے کا امکان کم ہو گیا۔
میراک خان چکرانی نے شدت پسند عناصر کے خلاف قائم کردہ چکرانی امن فورس میں شمولیت کا بھی اعلان کیا، جس سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ ریاست کے تعاون سے علاقے میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن ردّالفتنہ کی بہترین حکمت عملی اور مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان کے دیگر شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر بھی جلد ریاست کے سامنے سرنگوں ہوں گے، اور علاقے میں دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے ریاست کی مستقل اور موثر کوششوں کی ایک مثال ہے، جس سے دہشت گرد عناصر کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔