وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کر دیا ہے کہ جن افراد نے آرمی تنصیبات پر حملے کیے، ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں، کیونکہ ایسے اقدامات ریاست کی ریڈ لائن عبور کرنے کے مترادف ہیں اور قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ‘ہم نے ملک کے قانونی نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ بہتر کیا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کسی بھی مہذب معاشرے کا حسن ہوتا ہے اور اس کا مطلب لڑائی یا تصادم نہیں ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر قانون نے آئینی ترمیم کے معاملے پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجھ پر اس معاملے پر شدید تنقید کی گئی، لیکن یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ 22 کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اختیارات پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
ججز کے ٹرانسفر کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پہلے ججز کے تبادلے کا اختیار صدرِ مملکت اور چیف جسٹس کے پاس تھا، تاہم موجودہ اصلاحات کے تحت اس طریقہ کار کو مزید شفاف اور بہتر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ‘جب جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کر سکتا ہے تو وہ ان کے تبادلے کیوں نہیں کر سکتا’۔
انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز موجود ہیں تو کیا سندھ اور خیبر پختونخوا کے عوام کا یہ حق نہیں کہ وہ ان ججز کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور وقت کے ساتھ یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ فیصلہ کتنا درست اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے اس بات پر زور دیا کہ آئین کے مطابق آئینی ترمیم کا اختیار صرف اور صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘1973 سے لے کر آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دیا’۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر وہ آخری شخص ہوتے جو سویلین کے ملٹری ٹرائل کی حمایت کریں، لیکن جب ریاستی نظام کو آئین اور قانون کے مطابق چلانے کی بات آتی ہے تو بعض اوقات سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ قانون کے تحت مخصوص حالات میں سویلین کا ملٹری ٹرائل ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جب آپ ریڈ لائن کراس کرتے ہیں، آرمی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں اور ریاستی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں تو پھر قوانین حرکت میں آتے ہیں’۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایسے افراد کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔