مشہد سے تہران تک اقتدار کا سفر، آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟، انہوں نے ایران کو کیسے بدلا؟

مشہد سے تہران تک اقتدار کا سفر، آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟، انہوں نے ایران کو کیسے بدلا؟

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے مقدس شہر مشہد میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دینی مدارس میں فقہ اور اسلامیات کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں نجف اور قم کے علمی مراکز سے وابستہ رہے۔ وہ انقلاب ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی شاگردوں میں شمار ہوتے تھے اور ان کی فکری تربیت نے ان کی سیاسی سمت کا تعین کیا۔

شاہ کے دور میں جدوجہد اور قید و بند

شاہِ ایران کے دور میں آیت اللہ خامنہ ای سیاسی سرگرمیوں کے باعث متعدد بار گرفتار ہوئے۔ انہوں نے مذہبی اجتماعات اور تقاریر کے ذریعے شاہی حکومت پر تنقید کی جس کے نتیجے میں انہیں جیل اور نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ نئی اسلامی حکومت کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرنے لگے اور انقلابی قیادت کے اہم ستون بن کر ابھرے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت، ایرانی فوج کا بدلہ لینے کا اعلان

قاتلانہ حملہ اور صدارت

1981 میں ایک قاتلانہ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے جس کے باعث ان کا دایاں بازو مستقل طور پر متاثر ہوا۔ اسی سال وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور ایران عراق جنگ کے دوران ملک کی قیادت کی۔ جنگی حالات میں انہوں نے عسکری اور دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔

1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد مجلس خبرگان نے انہیں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا، جس کے بعد وہ ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز ہوئے اور چار دہائیوں تک ایران کی سیاسی و عسکری سمت کا تعین کرتے رہے۔

دفاعی پالیسی اور مزاحمتی معیشت

سپریم لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے ایران کی دفاعی اور عسکری پالیسی کو وسعت دی۔ پاسداران انقلاب کو مزید مضبوط کیا گیا اور اسے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے میں مرکزی کردار دیا گیا۔ ان کے دور میں ایران نے مزاحمتی معیشت کی پالیسی اپنائی تاکہ مغربی پابندیوں کے باوجود خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے اور مقامی صنعت کو تقویت دی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا ایران پر حملہ، 70 سے زائد شہری شہید، ایران کی جوابی کارروائی جاری، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

مغرب سے تعلقات اور جوہری معاہدہ

آیت اللہ خامنہ ای مغرب خصوصاً امریکا کے حوالے سے سخت موقف رکھتے تھے۔ تاہم دو ہزار پندرہ میں انہوں نے ایران کے جوہری معاہدے کی منظوری دی جسے مشترکہ جامع منصوبہ عمل کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں امریکا کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران اور مغرب کے تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

اندرونی چیلنجز اور احتجاج

ان کے دور میں دو ہزار نو کے گرین موومنٹ احتجاج، دو ہزار انیس کے معاشی مظاہرے اور 2022 میں خواتین کے حقوق سے متعلق احتجاج جیسے بڑے چیلنجز سامنے آئے۔ ان مظاہروں کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے سیکیورٹی اقدامات سخت کئے گئے۔ ناقدین نے ان اقدامات کو سخت قرار دیا جبکہ حامیوں کا کہنا تھا کہ ملکی استحکام کے لیے یہ ضروری تھے۔

محور مزاحمت کی حکمت عملی

آیت اللہ خامنہ ای نے خطے میں ایران کے اتحادیوں کے نیٹ ورک کو مضبوط کیا جسے محور مزاحمت کہا جاتا ہے۔ اس میں لبنان کی حزب اللہ، فلسطین کی حماس، یمن کے حوثی اور عراق کے مسلح گروہ شامل رہے۔ اس حکمت عملی نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھارا، تاہم حالیہ برسوں میں ان اتحادیوں کو عالمی دباؤ اور علاقائی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔

چار دہائیوں پر محیط قیادت

چار دہائیوں پر محیط قیادت کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے حامی انہیں استقامت اور مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین ان کی حکمرانی کو سخت گیر پالیسیوں سے تعبیر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی

واضح رہے کہ ان کی سیاسی زندگی جدوجہد، طاقت، نظریاتی وابستگی اور علاقائی حکمت عملی کا امتزاج تھی جس نے ایران کی سیاست کو ایک مخصوص سمت عطا کی اور ملک کو عالمی منظرنامے میں ایک نمایاں کردار دیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *