عوام پٹرول اور ڈیزل کے ہر لیٹرپر حکومت کوکتنا ٹیکس دے رہے،اصل اعداد وشمار سامنے آگئے

عوام پٹرول اور ڈیزل کے ہر لیٹرپر حکومت کوکتنا ٹیکس دے رہے،اصل اعداد وشمار سامنے آگئے

رواں مالی سال کے دوران عوام پر پیٹرولیم لیوی کا بوجھ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل سے حکومت کے نان ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق اضافی پیٹرولیم لیوی کی بدولت نان ٹیکس آمدن بڑھ کر 3 ہزار 847 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جو عوام سے ایندھن کی مد میں وصول کی جانے والی بھاری رقم کی عکاسی کرتی ہے۔

وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران صرف چھ ماہ میں عوام سے 823 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے گئے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 273 ارب روپے زیادہ ہے، جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل استعمال کرنے والے شہریوں پر ٹیکسوں کا دباؤ مزید بڑھ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت اور اپوزیشن کے مزاکرات ، رانا ثناء اللہ نے بڑی پیش رفت بتا دی

رپورٹ کے مطابق اس وقت عوام ہر لیٹر پیٹرول پر 87 روپے جبکہ ہر لیٹر ڈیزل پر 79 روپے پیٹرولیم لیوی ادا کر رہے ہیں۔ یعنی اگر کوئی شہری ایک لیٹر پیٹرول ڈلواتا ہے تو اس کی قیمت کا ایک بڑا حصہ براہ راست حکومت کے خزانے میں پیٹرولیم لیوی کی صورت میں چلا جاتا ہے، جبکہ یہ رقم ایندھن کی اصل قیمت سے الگ وصول کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق چھ ماہ کے دوران مجموعی نان ٹیکس ریونیو میں 245 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس میں سب سے بڑا حصہ پیٹرولیم لیوی کا ہے۔ حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1 ہزار 468 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جو پہلے ہی آدھے سال میں نمایاں حد تک حاصل کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:طلبعلموں کیلئے بری خبر،وفاقی آئینی عدالت کا امتحانی نظام کے متعلق بڑا فیصلہ

دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا حجم صرف 96 ارب 68 کروڑ روپے تھا، جبکہ رواں سال یہی رقم کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں دیگر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بھی شامل ہوتی ہیں، جن میں سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور ڈسٹری بیوشن مارجن شامل ہیں، جس کے باعث صارف کو فی لیٹر ایندھن کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام روزانہ استعمال ہونے والے ایندھن پر بھاری پیٹرولیم لیوی ادا کر رہے ہیں، لیکن زیادہ تر صارفین کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ ہر لیٹر پر کتنی رقم صرف ٹیکسوں کی نذر کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر مہنگائی، ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *