امیر ترین خاندان دبئی شہر چھوڑنے لگے، چند گھنٹوں میں ملک سے نکلنے کی دوڑ، نجی طیارے کی بکنگ کے لیے لاکھوں ڈالرز خرچ

امیر ترین خاندان دبئی شہر چھوڑنے لگے، چند گھنٹوں میں ملک سے نکلنے کی دوڑ، نجی طیارے کی بکنگ کے لیے لاکھوں ڈالرز خرچ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور فضائی حدود جزوی طور پر بند ہونے کے بعد دبئی میں مقیم انتہائی امیر افراد بڑی تعداد میں شہر چھوڑنے لگے ہیں۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق محفوظ مقامات تک فوری رسائی حاصل کرنے کے لیے دولت مند خاندان نجی پروازوں پر 2 لاکھ ڈالر تک خرچ کر رہے ہیں تاکہ جلد از جلد خطے سے نکل سکیں۔

متحدہ عرب امارات کا صحرائی شہر دبئی کئی دہائیوں سے دنیا بھر کے سرمایہ داروں اور دولت مند افراد کے لیے ایک پرکشش مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔ کم ٹیکس کی پالیسی، سخت سیکیورٹی، عیش و عشرت سے بھرپور طرز زندگی اور کاروبار دوست ماحول نے اس شہر کو عالمی سرمایہ داروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کے ہزاروں سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات نے یہاں رہائش اختیار کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دبئی میں بڑا حملہ، ایران کا 160 امریکی فوجیوں میں سے 100 ہلاک کرنے کا دعویٰ

تاہم اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور ایران کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر اس شہر جسے محفوظ پناہ گاہ تصور کیا جاتا تھا اب خوف کی علامت بن چکا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل خطے کے مختلف حصوں میں داغے جا رہے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود بھی جزوی طور پر بند کر دی گئی ہے جس کے باعث فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔

دبئی چھوڑنے والی ایک ترک خاتون نے بتایا کہ جب پام جمیرہ کے قریب ایک پرتعیش ہوٹل کے قریب میزائل حملے کے بعد ملبے سے آگ بھڑک اٹھی تو ان کے خاندان نے فوری طور پر شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

پام جمیرہ دبئی کے مصنوعی جزیروں کا وہ معروف سلسلہ ہے جو شہر کی شان و شوکت اور جدید تعمیرات کی علامت سمجھا جاتا ہے اور دنیا بھر کے سیاحوں اور سرمایہ داروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

خاتون کے مطابق وہ اپنے شوہر اور 2 کم عمر بچوں کے ساتھ 6 گھنٹے تک صحرا میں گاڑی چلاتے ہوئے عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچے۔ وہاں سے انہوں نے یورپ کے ایک محفوظ شہر جانے کے لیے 2 لاکھ ڈالر مالیت کی نجی پرواز کا انتظام کیا تاکہ جنگ ختم ہونے تک وہ محفوظ مقام پر قیام کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے خاندان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر بچوں کے خوف نے انہیں فوری فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب بچوں نے زور دار دھماکوں کی آواز سنی تو وہ شدید خوفزدہ ہو گئے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر جنگ مزید پھیل گئی تو خطہ چھوڑنا مزید مشکل ہو سکتا ہے، خصوصاً اگر خطے کے دیگر ممالک بھی اس تنازع میں شامل ہو گئے۔

مزید پڑھیں:ایران کیجانب سے اسرائیل سمیت خلیجی ممالک کے مختلف امریکی اڈوں پر ڈرون و میزائل حملے جاری

دبئی طویل عرصے سے دنیا کی بلند ترین عمارتوں، وسیع خریداری مراکز، مصنوعی تفریحی مقامات، برفانی کھیلوں کی سہولیات اور پرتعیش ہوٹلوں کی وجہ سے امیر اور مشہور شخصیات کے لیے ایک عالمی تفریحی مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس شہر کی ایک مستحکم کاروباری مرکز کے طور پر ساکھ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ امارات کی سمت 8 سو سے زیادہ ڈرونز اور 200کے قریب میزائل داغے جا چکے ہیں جن کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ حملوں کے دوران ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے خطے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی۔

اس صورتحال کے پیش نظر یورپ کے کئی ممالک اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی ممالک اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے عمان کے راستے خصوصی پروازیں بھیج رہے ہیں۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں سے محدود تعداد میں تجارتی پروازیں بھی جاری ہیں، تاہم بڑی تعداد میں امیر افراد نجی طیاروں کے ذریعے شہر چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

نجی طیاروں کے انتظامات کرنے والی عالمی کمپنی کے ایک ترجمان کے مطابق حالیہ دنوں میں نجی پروازوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم سیکیورٹی خدشات اور فضائی حدود کی پابندیوں کے باعث بعض طیارہ آپریٹرز پروازیں چلانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

ان کے مطابق اومان کے راستے کو سب سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں سے دیگر ممالک تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔ تاہم امارات اور اومان کی سرحد پر شدید رش کے باعث لوگوں کو 3 سے 4 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا ایک بار پھر اسرائیل پر بیلسٹک میزائل سے حملہ، عمارتوں میں آگ بھڑک اُٹھی

واضح رہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو نجی طیاروں کی دستیابی مزید کم ہو سکتی ہے اور ان کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ادھر نجی گاڑیاں کرائے پر فراہم کرنے والی کمپنی کے آپریشنز کوآرڈینیٹر کے مطابق مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے امیر افراد میں دبئی سے نجی گاڑیوں کے ذریعے باہر جانے کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے خاندان فضائی سفر میں رکاوٹوں کے باعث پہلے سڑک کے راستے اومان یا دیگر قریبی ممالک پہنچ رہے ہیں اور وہاں سے آگے سفر کر رہے ہیں۔

اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو دبئی جیسے بڑے عالمی تجارتی مرکز پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *