اسلام آباد ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والی معروف ڈاکٹر فضیلہ عباسی کو بڑی ریلیف دیتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت ‘1’ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض بحال کر دی ہے۔
جسٹس محمد اعظم خان کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کریں۔
سماعت کے آغاز پر ڈاکٹر فضیلہ عباسی اپنے نامور وکیل نعیم بخاری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ قانون کا احترام کرتی ہیں اور اب تک 3 مرتبہ عدالت کے سامنے پیش ہو چکی ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صرف ایک بار پیش نہ ہونے پر 3 دن کا باقاعدہ میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرایا گیا تھا، جس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے ان کی ضمانت خارج کر دی تھی جو کہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ کے 22 مختلف بینک اکاؤنٹس میں تقریباً 25 ارب روپے کا بھاری ٹرن اوور ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ان کی جانب سے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ سالانہ آمدن محض 4 سے 6 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ ادارے کا الزام ہے کہ اتنی قلیل آمدن کے باوجود اربوں روپے کی لین دین مشکوک ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔
عدالتِ عالیہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت بحال کرنے کا حکم جاری کیا اور انہیں پابند کیا کہ وہ ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر اپنا دفاع کریں۔
واضح رہے کہ 25 ارب روپے کے اس میگا کیس میں آنے والے دن ڈاکٹر فضیلہ کے لیے مزید مشکل ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ایف آئی اے شواہد کے ساتھ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔