ایران نے واشنگٹن کی جانب سے موصول ہونے والی جنگ بندی کی تجاویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، حکومت نے امریکی تجاویز کو “غیر متوازن” اور “حد سے زیادہ مطالبات” پر مبنی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران کی اپنی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں، فوجی دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایرانی حکام نے امریکی تجویز کے جواب میں اپنی پالیسی واضح کرتے ہوئے درج ذیل مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ٓ ایران پر ہونے والے تمام عسکری حملے اور اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ فوری طور پر بند کی جائے۔
امریکہ کی جانب سے ٹھوس اور قانونی ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف کوئی جارحیت نہیں کی جائے گی۔ جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے تمام معاشی اور بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے حامی گروہوں اور اتحادیوں کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں ختم کی جائیں۔ عالمی سطح پر تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل اختیار اور خود مختاری کو تسلیم کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق، امریکہ کی یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی تھیں، اور یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پاکستان یا ترکیہ ان مذاکرات کی میزبانی کر سکتے ہیں۔ تاہم، حالیہ بیان نے فوری مذاکرات کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ “جنگ بندی کا فیصلہ ایران خود کرے گا” اور شرائط مانے بغیر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکی تجاویز کا جائزہ لیا اور انہیں غیرمناسب پایا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت تعین کریں اور ایران نے علاقائی ثالث کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
ایرانی شرائط
دشمن کی طرف سے ’جارحیت اور قتلِ عام‘ کا مکمل خاتمہ
ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کو روکنے کے لیے مربوط طریقہ کار
جنگ میں ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ضمانت
خطے میں تمام محاذوں اور ’مزاحمتی گروہوں‘ کے خلاف جنگ کا خاتمہ
بین الاقوامی برادری آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرے
ایران حکام نے بتایاکہ جنگ کے خاتمے کی پہلی شرط حملوں کا رُکنا اور ایرانی عہدیداروں کے قتل کا خاتمہ ہے اور ایران کی دفاعی کارروائیاں ایرانی شرائط پوری ہونے تک جاری رہیں گی۔ جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی شرائط پر ہوگا،ایران جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے ٹھوس اور ضمانت شدہ اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے، ایران میں جنگ کے نقصانات کا تعین اورادائیگی کی ضمانت دی جائے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کی ان سخت شرائط پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر واشنگٹن ان شرائط کو تسلیم نہیں کرتا، تو خطے میں فوجی تصادم کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور خاص طور پر تیل کی ترسیل پر انتہائی منفی مرتب ہوں گے۔