ماسکو: روسی حکومت نے مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ (WhatsApp) پر مکمل پابندی لگا دی ہے اور صارفین کو متبادل سرکاری پلیٹ فارم “MAX” استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق روسی حکومت کی جانب سے واٹس ایپ پر پابندی لگانے سے متعلق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ماسکو نے غیر ملکی ٹیک کمپنیوں پر اپنے قوانین کے تحت عمل نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی حکام نے واٹس ایپ کو مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 100 ملین صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب کریملن کا موقف ہے کہ واٹس ایپ نے روسی قوانین کی پابندی نہیں کی، اسی لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
صارفین کو “MAX” نامی ریاستی حمایت یافتہ میسجنگ سروس استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جسے روسی حکومت واٹس ایپ کا متبادل قرار دے رہی ہے۔
روسی حکام کے مطابق MAX ایپ میں میسجنگ کے ساتھ ساتھ دیگر خدمات بھی شامل ہیں، جیسے آن لائن سرکاری سروسز، ادائیگیاں اور لوکل خدمات تک رسائی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ MAX صارفین کا ڈیٹا حکومتی نگرانی کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن نہیں ہوتی، جس سے پرائیویسی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
روس میں واٹس ایپ پر پابندی کے بعد متعارف کرائے گئے سرکاری حمایت یافتہ میسجنگ پلیٹ فارم “MAX” کے حوالے سے ماہرین نے سنجیدہ خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ڈیجیٹل سکیورٹی ماہرین کے مطابق MAX کھلے عام یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ حکام کی درخواست پر صارفین کا ڈیٹا شیئر کر سکتا ہے، جس سے شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق روسی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملکی قوانین کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات تک رسائی دی جانی چاہیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور جرائم کی روک تھام کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال روس نے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر بعض کالنگ فیچرز کو محدود کرنا شروع کر دیا تھا۔ روسی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ غیر ملکی پلیٹ فارمز دھوکہ دہی اور دہشتگردی کے کیسز میں مطلوبہ معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر نہیں کر رہے تھے۔
مزید جانیئے: واٹس ایپ صارفین کے لیے اہم خبر، نیا زبردست فیچر متعارف

