وفاقی وزیر خزانہ محمد اونگزیب نے اعلان کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔
وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال کے باعث گزشتہ ایک ہفتے سے دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ملک اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔
اس حوالے سے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ آج ہم غیر معمولی حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور وزیراعظم نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس معاملے پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کرے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ دوست ممالک کو ساتھ ملا کر جنگ کی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خودکار طور پر اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ دو دن سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جس کے باعث مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تقریباً 50 سے 70 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
عالمی منڈی میں ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔
سرکاری حکام نے آج وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باعث پاکستان میں فی لیٹر تقریباً 110 روپے تک اضافہ ضروری ہے۔
تاہم وزیراعظم نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے ہدایت کی کہ قیمتوں میں اضافہ کم کر کے تقریباً 55 سے 60 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا جائے۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ نہ کی جائیں تو سستے ایندھن کی وجہ سے اسمگلنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی صورتحال میں ایندھن افغانستان اور بھارت کی جانب غیر قانونی طور پر منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے پاکستان کو مزید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔