پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، اور اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کا اگلا مرحلہ جمعہ 10 اپریل 2026ء سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان اس عمل میں دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ امن قائم رکھنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
ایران کی جانب سے مذاکرات میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شرکت کریں گے، جن کی آمد کی تصدیق ایرانی میڈیا نے کی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہوں گے۔
امریکا کی طرف سے نائب صدر جے ڈی وینس اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی مشیراسٹیو وٹکوف سمیت دیگر اعلیٰ سطحی حکام مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ دونوں ممالک کی طرف سے شامل ہونے والے یہ وفود پہلے بھی مذاکرات میں شریک رہے ہیں، تاہم بعض نکات پر ڈیڈ لاک کی وجہ سے معاملات آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔
اس سے قبل، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جنگ بندی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے امریکی اور ایرانی وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی تھی۔ وزیراعظم نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا تھا کہ مجھے انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ لبنان اور دیگر علاقوں میں فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ میں اس پرتپاک اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ تمام تنازعات کے تصفیہ اور حتمی معاہدے کے لیے جمعہ 10 اپریل 2026ء کو فریقین کے وفود کو اسلام آباد میں مدعو کرتا ہوں۔
پاکستان کی ثالثی کی وجہ سے نہ صرف جنگ بندی ممکن ہوئی بلکہ اب مذاکراتی عمل کے ذریعے خطے میں مستقل امن قائم کرنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی کوششیں عالمی سطح پر اس کی سفارتی حیثیت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں سیاسی توازن قائم رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوئی ہیں۔