پی ٹی آئی کے دعوؤں اور عمران خان کی ہمشیرہ کے سابق بیان میں تضاد،سوشل میڈیا پرسوالات

پی ٹی آئی کے دعوؤں اور عمران خان کی ہمشیرہ کے سابق بیان میں تضاد،سوشل میڈیا پرسوالات

  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ اکتوبر 2025 میں متاثر ہوئی اور انہیں بروقت طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔

تاہم اس دعوے کے برعکس عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کا 2 دسمبر 2025کا ایک سابق بیان سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہوگیا ہے، جس میں انہوں نے عمران خان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا تھا۔

 عظمٰی خان نے2 دسمبر 2025 کو میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے اور انہیں کسی سنگین طبی مسئلے کا سامنا نہیں۔ اب اسی بیان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ پارٹی کے حالیہ مؤقف اور خاندان کے سابق بیانات میں یہ تضاد کیوں دکھائی دے رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اس معاملے پر دو ممکنہ پہلوؤں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ پارٹی کی موجودہ قیادت عمران خان کی صحت سے متعلق صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ دوسری رائے کے مطابق خاندان کی جانب سے دیے گئے بیانات میں ہم آہنگی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہو رہی ہے۔

کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر 2 دسمبر 2025 کو عظمیٰ خان خود صحت ٹھیک ہونے کی بات کر رہی تھیں تو اب سامنے آنے والے دعوؤں کی وضاحت ضروری ہے۔

سلمان صفدر کی رپورٹ اور “15 فیصد بینائی” کا دعویٰ

واضح رہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سلمان صفدر کی جانب سے سات صفحات اور 22 پیراگراف پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ علاج کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی اب صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔رپورٹ میں عمران خان نے عدالت سے درخواست بھی کی ہے کہ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالجین یا کسی مستند ماہر ڈاکٹر سے کروایا جائے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *